امریکا طالبان مذکرات منسوخی کے بعد 9/11 کو کابل میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ

طالبان اور ٹرمپ حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ کر منسوخ ہو جانے کے بعد 9/11 کو کابل میں واقع امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے۔

امریکا طالبان مذکرات منسوخی کے بعد 9/11 کو کابل میں امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق افغانستان میں 18 برس سے جاری امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان اور ٹرمپ حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ کر منسوخ ہو جانے کے بعد کابل میں واقع امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق افغانستان کے دارلحکومت کابل میں واقع امریکی سفارتخانے پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے جس سے اس کا کمپاونڈ تباہ ہو گیا تاہم کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ حکام نے سفارتخانے کو کلیئر قرار دیدیا ہے۔

افغان دارلحکومت کابل کے وسط میں واقع امریکی سفارتخانے کی عمارت سے دھویں کے گہرے بادل اٹھنے لگے جس کے بعد سائرن بجنا شروع ہوگئے اور اعلان کیا گیا کہ سفارتخانے پر ایک راکٹ فائر کیا گیا ہے جس کے باعث کمپاونڈ میں دھماکہ ہواہے۔

واضح رہے کہ راکٹ حملے میں قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ دوسری جانب امریکی سفارتخانے پر ہونے والے راکٹ حملے کی تصدیق نیٹو مشن کی جانب سے بھی کر دی گئی ہے اور بتایا گیاہے کہ کوئی اہلکار زخمی نہیں ہواہے ۔

خیال رہے کہ افغانستان میں 18 برس سے جاری امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے لیے طالبان اور ٹرمپ حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کو ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ کر ختم کردینے کے بعد کابل میں یہ اب تک کا پہلا بڑا حملہ ہے۔

یاد رہے کہ افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان دوحہ، قطر میں ہونے والے مذاکرات کے نویں دور سے وابستہ تمام امیدیں چند گھنٹے قبل اس وقت دم توڑ گئی تھیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے پیغام میں اعلان کیا تھا کہ مذاکرات کا جاری عمل منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے کابل میں ہونے والے حملوں کو قراردیا ہے۔  ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو سودے بازی میں اپنی پوزیشن بہتر بنانے کے لئے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔

دھیان رہے کہ امریکی سفارتخانے پر یہ حملہ 9/11 ہی کو کیا گیا ہے۔ 18 برس پہلے اس دن امریکی ایئرلائن کے 2 مسافر طیارے 18 منٹ کے وقفے سے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دونوں عمارتوں سے ٹکرائے تھے، ان واقعات میں 3 ہزار کے قریب افراد جان سے گئے۔

اس حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی اُس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عندیہ دیا، جس کا آغاز 7 اکتوبر کو افغانستان میں 'آپریشن اینڈیورنگ فریڈم' کے نام سے کیا گیا۔ 

نائن الیون کے واقعے کو 18 برس بیت چکے ہیں، لیکن اس حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کی آگ ابھی تک بجھ نہ سکی۔

 

قندوز اور پل خمری کے بعد طالبان کا کابل پر حملہ، 16 افراد جاں بحق 100 سے زائد زخمی


 

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری