ٹریفک حادثات اور ہلاکتوں کی اہم ترین وجوہات


ٹریفک حادثات اور ہلاکتوں کی اہم ترین وجوہات

مملکت خدا داد پاکستان میں ہرہفتے کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ٹریفک حادثہ رونما ہوتا رہتا ہے جس کی وجہ سے سالانہ ہزاروں قیمتی جانیں جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔

اس مختصرتحریرمیں ٹریفک حادثات اور ہلاکتوں کی اہم ترین وجوہات اور اس کا حل بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ یوں تو ٹریفک حادثات دنیا بھرمیں ہوتے رہتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ٹریفک حادثات کی وجہ سے سالانہ دس لاکھ افراد جاں بحق اور 50 لاکھ شدید زخمی ہوجاتے ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے ٹریفک حادثات پر کافی حد تک قابو پالیا ہے لیکن ترقی پذیرممالک میں یہ مسئلہ بدستور حل طلب ہے۔

مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر آئے روز ٹریفک حادثات پیش آتے ہیں:

گاڑی چلانے کی مہارت سکھانے والے اداروں کا فقدان؛
دنیا بھرمیں سرکاری سطح پر ڈرائیوںگ اسکول بنے ہوئے ہیں اور گاڑی چلانے کا خواہشمند ہر شخص کئی دنوں تک اسکول جاتا ہے اور انہیں باقاعدہ طور پر ٹریفک قوانین کے ساتھ ساتھ گاڑی چلانے کی مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کا نظام ہونے کے برابر ہے، اکثر لوگ اپنے رشتداروں یا دوستوں سے گاڑی چلانا سکیھ لیتے ہیں اور ایسا کرنا جرم بھی نہیں سمجھتے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں مخصوص ادارے ہی ڈرائیونگ سکھانے کے مجاز ہوتے ہیں۔
حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر میں اس قسم کا نظام متعارف کرائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کےلئے سخت سے سخت سزا مقرر کرے۔ ڈرائیونگ اسکول بنانے سے ملک میں سیکڑوں افراد کو روزگار مہیا ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے میں تربیت یافتہ ڈرائیور میسر ہونگے۔

ناتجربہ کار ڈرائیور؛
  پوری دنیامیں ڈرائیونگ لائسنس '' گاڑی چلانے کا اجازت نامہ'' وصول کرنا سخت ترین مرحلہ ہوتا ہے لیکن ہمارے ملک میں اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ بس کسی دوست یا رشتہ دار سے گاڑی چلانا سیکھ لی اور ملکی شہراہوں پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی دوڑانا شروع کردیتے ہیں۔ بس کبھی کبھار کہیں کوئی چیکنگ ہوجائے تو رشوت یا سفارش کے ذریعے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مسلسل کئی گھنٹوں تک گاڑی چلانا؛
بسوں اور ٹرکوں کے ڈرائیور اکثر و بیشتر مسلسل سولہ سولہ گھنٹوں سے زائد ڈرائیونگ کرتے ہیں، جو کہ تھکن اور نیند کی وجہ سے خوفناک حادثے کا شکار ہوتے ہیں۔ 

جعلی لائسنس کی روک تھام نہ ہونا؛
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ملک بھرمیں ہزاروں افراد ایسے ہیں جن کے پاس لائسنس تو ہے لیکن انہوں نے کسی تربیت گاہ یا اسکول کا دروازہ تک نہیں دیکھا، بس کسی متعلقہ ادارے کے افسرکو چند پیسے دیے اور لائسنس حاصل کرلیا، رشوت لے کر اسطرح جعلی کارڈ دینے والے افسران کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہئے اور معاشرے کے ہرفرد کی ذمہ داری ہے کہ اس قسم کے خائن افراد کی موجودگی کی اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ یہ ہمارا قومی، شرعی اور انسانی فریضہ ہے اور قانون نافذکرنے والے داروں کو چاہئے کہ ملک بھرمیں جعلی لائسنس کی روک تھام کے لیے کیو آر کوڈ لائسنس متعارف کرائیں تاکہ جعلی لائسنس جاری کرنے والے افراد کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔

ملک بھرمیں یکساں لائسنس کا اجراء نہ ہونا؛
پاکستان کے ہرصوبے میں الگ الگ قسم کے لائسنس کارڈ جاری کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جعلی کارڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ لائسنس کارڈ قومی شناختی کارڈ کی طرح مرکز'' اسلام آباد'' سے ہی جاری کیا جائے تاکہ جعلی کارڈ کی روک تھام میں بھی مدد مل سکے۔

ٹریفک قوانین کی عدم پاسداری؛
ٹریفک حادثات کی اہم ترین وجہ معاشرے میں ٹریفک قوانین سےعدم آشنائی اور قوانین پرعمل درآمد نہ ہونا ہے۔ اکثر ڈرائیورحضرات ملکی شاہراہوں پر لگے سائن بورڈ کی علامتوں اور اشاروں پر عمل کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتےہیں؛ کیونکہ انہیں کسی قسم کے جرمانے کا خوف ہی نہیں ہوتاہے۔ معاشرے میں سگنل توڑنا جرم نہیں سمجھا جاتا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ علمائے کرام بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ علمائے کرام کو باقاعدہ طور پر فتوا جاری کرنا چاہئے کہ سگنل توڑنا شرعا حرام ہے۔ 

موبائل فون کا استعمال؛
گاڑی چلاتے وقت موبائل کا استعمال ٹریفک قوانین میں ممنوع قرار دیا جاچکا ہے۔ اس کے باوجود اکثر اوقات دیکھنے میں آتا ہے کہ گاڑی چلانے والا بغیر کسی خوف کے موبائل استعمال کرتا ہے اور کوئی روکنے والا نہیں ہوتا۔ اب تک کی تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ موبائل کا استعمال ہی روڈ حادثات میں اہم ترین وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔ موبائل پر کال آتے ہی جواب دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور جواب دینے والا اس بات سے بالکل غافل ہوتاہے کہ سامنے سے فون پر کیا خبر دی جائے گی۔ کبھی کبھار فون پر بری یا اچھی خبر ملنے سے انسان اپنی اصلی حالت میں نہیں رہتا ہے جس کی وجہ سے تصادم کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتاہے کیونکہ ڈرائیور کی توجہ بٹ جاتی ہے۔ 
نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) امریکا کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کے کل ایکسیڈینٹ میں سے تقریباً 25 فیصد ایکسیڈینٹ دوران ِ ڈرائیونگ موبائل فون کے استعمال کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال کرنے والے نوجوان کا کسی ایمرجنسی کی صورت میں ردعمل ایک 70سال کے بوڑھے آدمی کے برابر ہو جاتا ہے۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون پر واٹس ایپ یا ٹیکسٹ میسج کرنا بہت ہی خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ لہذا اگر بہت ایمرجنسی ہو تو فوری طور پر گاڑی روک لی جائے اور پھر بات کی جائے۔
ٹریفک قوانین لاگو کرنے والے پولیس افسران کی ذمہ داری ہے کہ ڈرائیور کو دورانِ ڈرائیونگ ہاتھ میں موبائل فون پکڑے دیکھ لیں تو اُس کا فوری طور پر چالان کر دیں تاکہ وہ دوبارہ اس قسم کی غلطی نہ کرے۔

سڑکوں پر سفید اور زرد لائنوں کا نہ ہونا؛
دنیا بھرمیں سڑکوں پر سفید یا زرد رنگ کی خاص علامتی لکیریں کھینچی جاتی ہیں تاکہ گاڑی چلانے والے کو آسانی ہو اور دوسرے ڈرائیور کے لئے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ ڈرائیونگ کےلئے ان لائنوں کاجاننا انتہائی ضروری ہے۔ 

گاڑی کا فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ نہ ہونا؛
دنیا کے اکثرممالک میں کسی بھی گاڑی کو ''فٹنس ٹیسٹ سرٹیفکیٹ'' کے بغیر ٹرمینل سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے، لیکن ہمارے ملک میں یہ نظام صرف برائے نام ہے۔ ملک بھرمیں دھواں چھوڑتی اور شور مچاتی ہزاروں گاڑیاں سڑکوں اور قومی شاہراہوں پر دوڑتی نظرآتی ہیں اور یہی گاڑیاں روزانہ درجنوں شہریوں کوخاک وخوں میں غلطاں کردیتی ہیں۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کے بغیرچلنے والی گاڑیوں اور کمپنیوں کی رجسٹریشن بھی منسوخ کروائی جائے اور شہری کسی بھی گاڑی میں سوار ہونے سے قبل یہ جان لیں کہ اس گاڑی کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ ہے یا نہیں۔

مسافر بسوں میں سیٹ بیلٹ کا نہ ہونا؛ 
ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ ٹریفک حادثات ہوتے ہیں اس کے باوجود سیٹ بلیٹ اور ہیلمٹ کے استعمال پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ہے جس کی وجہ سےہلاکتوں میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔
ماہرین کا کہناہے کہ سیٹ بلیٹ اور ہیلمٹ، حادثے کی صورت میں انسانی کی زندگی بچانے میں اہم معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ڈرائیور کی حد تک سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ پہنے کی تلقین کی جاتی ہے جبکہ یہ گاڑی میں سوار تمام افراد کے لئے انتہائی ضروری ہوتاہے۔ حال ہی میں گلگت بلتستان کے شہر اسکردو سے روالپنڈی جانے والی ایک بس حادثے کا شکار ہوئی اور تقریبا 26 افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے اور 12 شدید زخمی ہوئے، کاش اس بس میں سیٹ بیلٹ کا انتظام ہوتا تو اتنی قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہوتا اور بہت سی زندگیاں بچ سکتی تھیں۔ 

مسافر بسوں میں ہنگامی دروازہ نہ ہونا؛
مسافربسیں بنانے والی دنیا کی معروف کمپنیوں نے ہربس میں کم سے کم دو دروازے اور ایک ہنگامی دروازے کا ہونا لازمی قرار دیا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا ہے پڑتا ہے کہ پاکستان میں اکثربسوں کا ایک ہی دروازہ ہوتا ہے اور حادثے کی صورت میں مسافروں کے پاس نکلنے کے لئے راستہ ہی نہیں ہوتا۔ 

آگ بجھانے والے آلات اور فرسٹ ایڈ باکس کا نہ ہونا؛
ہمارے ہاں مسافر بسوں میں آگ بجھانے والے آلات اور فرسٹ ایڈ باکس  نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی حادثے کی صورت میں متعدد معصوم مسافر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔

مسافر گاڑی کو مال بردار گاڑی کے طور پر استمعال کرنا؛
دنیا کے اکثروبیشترممالک میں گاڑی کی چھتوں پر سامان رکھنے کے لئے کوئی اسٹینڈ نہیں بنا ہوتا۔ اگرکسی گاڑی کی چھت پر ''سامان کے لئے''  مخصوص جگہ ہوبھی تو سامان رکھنے کی حد معین اور بندھا ہوا ہونا شرط ہے۔ ہمارے ہاں خاص کرسرحدی علاقوں کی اکثرمسافر بسوں کو مال بردار گاڑی کے طور پر استمعال کیا جاتاہے۔ حد تو یہ ہے کہ مسافر بسوں کی چھتوں پر پیٹرول سے اور گیس سے بھرے سیلنڈر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز خوفناک حادثات پیش آتے رہتے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ تمام مسافر بسوں کی چھتوں پر سامان رکھنے کوغیرقانوںی قرار دے اور خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیوراور کمپنیوں کے خلاف کاررورائی کرے۔ اور شہری ایسی بسوں میں سفر کرنے سے اجتناب کریں جس کی چھت پر حد سے زیادہ سامان رکھا گیا ہو کیونکہ یہ سامان کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ 

گاڑی میں حد سے زیادہ مسافر سوار کرنا؛
مسافر بسوں میں حد سے زیادہ افراد سوار کرنا بھی آئے روز حادثات کا سبب بن رہا ہےبعض اوقات تو مسافر بسوں کی چھتوں پر بھی لوگوں کو سفرکرتے دیکھا جاسکتا ہے، بس یا کسی بھی گاڑی کے چھت پر سوار ہوکر سفر کرنا نہایت خطرناک ہے۔ اس قسم کی تجارت کرنے والی بس کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ 

پرانی گاڑیوں کا بےدریغ استعمال؛
ملک بھرمیں ہزاروں ایسی گاڑیاں سڑکوں پر دوڑتی نظرآرہی ہیں جو استعمال کے قابل ہی نہیں ہیں۔

نشہ آور چیزوں کا استعمال۔
عمومی طور پر ڈرائیورز نشہ میں دھت گاڑی چلاتے ہیں جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ایک ڈرائیور کے نشے کی لت قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بن جاتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کے لئے قوانین پر سخت عمل درآمد کرایا جائے۔ ایسی قانون سازی کی جائے کہ ڈرائیونگ لائسنس نشے کے عادی افراد کو ہر گز نہ دی جائے۔ ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء سے پہلے ان کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا جائے اور آئندہ بھی اس علت میں ملوث ہونے پر ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کی جائے۔
تحریر: غلام مرتضی جعفری

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری