فائرنگ؛ اگر امریکا میں ہو تو افسوسناک واقعہ، اگر مسلم ملک میں ہو تو دہشتگردی

امریکا اور مسلم ممالک میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات میں صرف اتنا فرق ہے کہ اگر فائرنگ کا کوئی واقعہ امریکا میں پیش آئے تو وہ "بیمار ذہنیت" کا نتیجہ ہوتا ہے تاہم اگر اسی نوعیت کا واقعہ کسی مسلم ملک میں رونما ہو تو وہ دہشتگردی ہوا کرتی ہے۔

فائرنگ؛ اگر امریکا میں ہو تو افسوسناک واقعہ، اگر مسلم ملک میں ہو تو دہشتگردی

دنیا میں عجیب دستور رائج ہے، ایک ہی حالات میں، ایک ہی نوعیت کے دو واقعات کو دو مختلف زاویوں سے دیکھا جاتا ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ یہ واقعہ پیش کدھر آیا ہے؟

اگر کوئی شخص کسی شاپنگ مال میں یا راہ چلتے شہریوں پر فائر کھول دے تو اس واقعے کو کوئی نام دینے سے پہلے اس امر کا پتہ چلایا جائے گا کہ یہ واقعہ کہاں کا ہے؟ اگر تو یہ فائرنگ امریکا یا یورپ میں ہوئی ہے اور بالخصوص فائرنگ کرنے والا سفید فام ہے تو اس میں کوئی شک ہی نہیں پچتا کہ قاتل ذہنی مریض ہے۔

دوسری جانب اگر یہی واردات کسی مسلم ملک میں ہوتی ہے تو وہ صاف صاف دہشتگردی کا واقعہ ہے اور اگر فائرنگ کرنے والا مسلمان ہو تو سونے پہ سہاگہ۔ مسلمان ہوتے ہی دہشتگرد ہیں، ان پر سفری پابندی عائد کرنی چاہیئے اور اس کے ملک پر معاشی۔

اگست 2019 میں فائرنگ کے اعداد و شمار جمع کرنے والے امریکی مرکز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پنسیلوانیا، کیلیفورنیا، فلوریڈا اور شمالی کیرولائنا سمیت مختلف ریاستوں میں فائرنگ کے 75 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

چند ہفتے قبل ٹیکساس کے شہر ایل پاسو کے سیلو وسٹا شاپنگ مال میں فائرنگ کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک جبکہ 40 زخمی ہوگئے تھے پولیس نے فائرنگ میں ملوث ایک سفید فام لڑکے پیٹرک کو گرفتار بھی کیا تھا۔

ابھی گذشتہ روز امریکا کے شہر نیویارک میں فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور ایک خاتون سمیت 3 زخمی ہوگئے ہیں۔

ایسے چند ایک نہیں، درجنوں واقعات ہیں لیکن کوئی بات نہیں۔ فائرنگ کرنے والے چونکہ امریکی ہیں لہذا نفسیاتی مریض ہیں۔

بات اگر یہیں ختم ہو جاتی تو اور بات تھی، اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ رواں سال اب تک افغانستان میں نیٹو اور افغان فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد اس سے زائد ہے جو عسکریت پسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق رواں برس کی پہلی ششماہی میں نیٹو اور افغان فورسز کے ہاتھوں مجموعی طور پر 717 عام شہری ہلاک ہوئے جبکہ انہی عرصے کے دوران طالبان اور داعش نے 531 شہری قتل کئے۔
افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے معاون مشن (یو این اے ایم اے) نے اپنے اعداد و شمار میں کہا ہے کہ زیادہ تر امریکی طیاروں کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں میں 363 افراد لقمہ اجل بنے ہیں جن میں 89 بچے بھی شامل ہیں۔ یہ اموات 2019ء کے پہلے 6 ماہ میں ہوئی ہیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر افغانستان کو طالبان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو عام عوام کا اتنا نقصان نہیں ہوگا جتنا افغان شہریوں کی حفاظت پر مامور امریکی فوج کر رہی ہے۔

ان تمام حقائق کے باوجود امریکا دہشتگرد نہیں ہے کیونکہ وہ امریکا ہے اور اگر مندرجہ بالا واقعات کا دسواں حصہ بھی کسی اسلامی ملک میں وقوع پذیر ہوتا تو اب تک اس ملک پر نہ صرف ڈھیروں سفری اور معاشی پابندیاں عائد ہو چکی ہوتیں بلکہ امریکا بہادر قیام امن کے بہانے اس ملک میں اپنی فوج تعینات کرکے اس کی معدنیات اور قیمتی ذخائر واشنگٹن منتقل کر چکا ہوتا۔

ایک دوسرے کو کافر، دشمن، فسادی اور جانے کیا کچھ کہنے اور سمجھنے والے مسلم ممالک کب اس حدیث کا مطالعہ کریں گے کہ، مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں؟ ان کی نظر سے کب یہ آیت گزرے گی کہ تم یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔

یاد رہے کہ جب تک یہ نہیں ہوگا، امریکا میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات ذہنی امراض کا نتیجہ جبکہ اسی ڈھنگ کے مسلمان ممالک میں ہونے والے واقعات دہشتگردی کہلاتے رہیں گے۔ دنیا میں امریکا کو مظلوم اور مسلمانوں کو تخریب کار بنا کر پیش کیا جاتا رہے گا۔

جب تک مسلم ممالک کی آنکھیں نہ کھلیں گی دنیا بھر میں مظالم کا شکار مسلمان شدت پسند، دہشتگرد، تخریب کار جبکہ محض ایٹمی تجربہ کرنے کی غرض سے ہیروشیما اور ناگاساکی میں کم و بیش سوا لاکھ بےگناہ شہریوں کو قتل کرنے والا امریکا امن کا پاسبان اور پیام بر کہلاتا رہے گا۔

تحریر: سید عدنان قمر جعفری

(ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری