وزیر اعظم عمران خان عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن سے خطاب کریں گے


وزیراعظم عمران خان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور خصوصی سیشن سے خطاب بھی کریں گے۔

ترجمان دفترخارجہ عائشہ فاروقی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عالمی اقتصادی فورم کے بان اور ایگزیکٹو چیئرمین کلاز شواب نے وزیراعظم عمران خان کو عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔

اعلامیے کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں عالمی اقتصادی فورم کا اجلاس 21 جنوری کو شروع ہوگا اور 23 جنوری تک جاری رہے گا۔

وزیراعظم عمران خان اس دورے کے دوران عالمی اقتصادی فورم کے خصوصی سیشن میں شریک ہوں گے اور پاکستان اسٹریٹجی ڈائیلاگ میں کارپوریٹ سیکٹر سے وابستہ نمائندوں سے تبادلہ خیال کریں گے۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کئی عالمی رہنماؤں سے غیررسمی ملاقاتیں بھی کریں گے جن میں سے اہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل ہیں اور جولائی 2019 کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان تیسری ملاقات ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان ڈیوس میں فورم کے بین الاقوامی میڈیا کونسل کے سیشن میں عالمی میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق عالمی اقتصادی فورم کے 50 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد ہو نے والے رواں برس کے اجلاس کا موضوع ’اسٹیک ہولڈرز برائے مربوط و پائیدار دنیا‘ رکھا گیا ہے۔

فورم سے سیاسی رہنما، بزنس ایگزیکٹوز، بین الاقوامی اداروں کے سربراہان اور سول سوساءٹی کے نمائندے عصر حاضر کے اقتصادی، جیو پولیٹیکل، سماجی اور ماحولیاتی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان پاکستان کے وژن اور معیشت، امن و استحکام، تجارت، بزنس اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق پاکستان کی کامیابیوں سے آگاہ کریں گے ۔

عمران خان ڈیوس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورت حال کو بھی اجاگر کریں گے اور اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کے نکتہ نظر پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 2018 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد گزشتہ برس 27 ستمبر کو اقوام متحدہ میں خطاب کیا تھا جہاں انہوں نے معیشت سمیت عالمی معاملات پر بات کی تھی اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو بھرپور انداز میں اٹھایا تھا۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے چار اہم معاملات موسمیاتی تبدیلی، اسلاموفوبیا، منی لانڈرنگ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورت حال پر گفتگو کی تھی۔