جنرل سلیمانی نہ ہوتے تو آج بغداد اور دمشق تکفیری دہشت گردوں کے قبضے میں ہوتے؛ کرد رہنما

عراق؛ کردستان کے رہنما محمد حاج محمود کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور جنرل سلیمانی نہ ہوتے تو آج بغداد اور دمشق پر تکفیریوں کا راج ہوتا۔

جنرل سلیمانی نہ ہوتے تو آج بغداد اور دمشق تکفیری دہشت گردوں کے قبضے میں ہوتے؛ کرد رہنما

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق،  عراقی کردستان میں سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ محمد حاج محمود نے تسنیم نیوزکے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سلیمانی جیسے عظیم کمانڈر نہ ہوتے تو آج بغداد سمیت پورے عراق پر داعش کا قبضہ ہوتا۔

تسنیم: آپ کی جنرل سلیمانی سے پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی؟ انہوں نے داعش کے خلاف آپ کی کیا مدد کی؟

محمد حاج محمود: سید محمدباقر حکیم کے ساتھ کسی اجلاس میں میری جنرل سلیمانی سے پہلی ملاقات ہوئی اور اس کے بعد ہمارا رابطہ برقرار رہا۔ عراق کے مختلف شہروں میں ان کے ساتھ کئی اجلاس منعقد ہوئے اور ملاقاتیں ہوتی رہیں۔

تسنیم: آپ شہید جنرل سلیمانی کے ساتھ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے رہے ہیں، شہید کو کیسے پایا، ان کی اہم ترین خصوصیات کیا تھیں اور کن خوبیوں کے مالک تھے؟

محمد حاج محمود: شہید جنرل سلیمانی لاتعداد خوبیوں کے مالک تھے، ان کی خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی اپنے مخالف کی تحقیر نہیں کرتے تھے۔ سب کے ساتھ نہایت احترام سے پیش آتے تھے۔ سامنے والے کی بات غور سے سننے کے عادی تھے۔

شہید جنرل سلیمانی کی سربراہی میں منعقد ہونے والے اجلاس نتیجہ خیز ہوتے تھے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کی سربراہی میں کوئی اجلاس منعقد ہوجائے اور بغیر نتیجے کے اختتام پذیرہوا ہو۔ شہید جنرل سلیمانی جنگی میدان میں نہایت مہارت رکھتے تھے وہ نڈر اور شجاع تھے۔

تسنیم: شہید جنرل سلیمانی کس حد تک کرستان کے حالات سے واقف تھے؟

 محمد حاج محمود: شہید جنرل سلیمانی یہاں کے حالات سے اچھی طرح واقف تھے، یہاں کے سیاسی اور سماجی رہنماوں سے ان کی ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں۔ وہ ہمیشہ کردی عوام کےمسائل پر گفتگو کرتے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی کہ عوام کے درد کو سمجھا جائے۔

تسنیم: آپ ان کے ساتھ متعدد اجلاسوں میں شرکت کرچکے ہیں تو کبھی ان کو ناراض ہوتے ہوئے یا غصہ کرتے ہوئے دیکھا؟ جب کسی بات پر اختلاف ہوتا تھا کہ اس کا حل طرح نکالتے تھے؟

محمد حاج محمود: شہید جنرل سلیمانی کے ساتھ متعدد بڑے جلسات میں شرکت کرنے کا موقع ملا اور ان سے متعدد ملاقاتیں ہوئیں، تہران، کردستان اور مختلف علاقوں میں ان کے ساتھ مختلف موضوعات پر گفتگو کی، شہید نہایت ملنسار اور بردبار انسان تھے۔ وہ ایک نرم مزاج شخصیت کے حامل تھے ان میں ایک خاص خصوصیت پائی جاتی تھی وہ کبھی کسی کو ناراض نہیں کراتے تھے۔ ان کے ساتھ جو بھی میٹنگ ہوئی وہ بغیر نتیجے کے ختم نہیں ہوئی۔ تہران میں ایک اہم اجلاس میں ہم سب شریک تھےانہوں نے ہمارے احترام میں کچھ مسائل ایسے قبول کئے جو ان کی نظر میں درست نہیں تھے۔

تسنیم: جب داعش نے کردستان پر حملہ کیا تو اس وقت جنرل سلیمانی اپنے کردبھائیوں کی مدد کو پہنچے۔ اس وقت داعشی دہشت گرد کہاں تھے اور کردستان کے کون کون سےعلاقوں پر تکفیری دہشت گرد قبضہ کرنا چاہتے تھے۔

محمد حاج محمود: داعش کے موصل پر قبضے کے فورا بعد ہی اسلامی جمہوریہ ایران سے ایک گروہ کردستان پہنچا اور انہوں نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ داعشی دہشت گرد موصل کے بعد کردستان پرقبضہ کرنے کی بھرپوری کوشش کریںگے۔  ہمارے کردوں نے ایرانیوں کی بات پر توجہ نہیں دی اور انہوں نے کہا کہ داعشی دہشت گرد کردستان کے بجائے بغداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے؛ لیکن ہوا وہی جو ایرانیوں نے کہا تھا۔ تکفیری دہشت گردوں نے اچانک کردستان پر حملہ کردیا چند دنوں میں وہ کرکوک، مخموراور گویر تک پہنچ گئے۔ اس وقت شہید جنرل سلیمانی 70 فوجی اہلکاروں کے ساتھ کردستان پہنچ گئے اور داعش کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کیا۔

تسنیم: اگر شہید جنرل سلیمانی اس وقت اپنے کردبھائیوں کی مدد کونہ پہنچتے تو کردستان کا کیا حال ہوتا؟

محمد حاج محمود: اس وقت ہمارے جوانوں کے ہاتھ خالی تھے داعشی دہشت گردوں نے عراقی فوج کے 90ہزار جوانوں سے اسلحہ ہی چھین لیا تھا۔

داعشی دہشت گردوں نے عراقی فوج سے جو اسلحہ چھین لیا تھا جو امریکا کا نہایت جدید ترین اسلحہ تھا اس میں ٹینک، میزائل اور دیگر جنگی ساز وسامان شامل تھا، ہمارے لئے داعش کا مقابلہ کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔ شہید جنرل سلیمانی 70 ایرانی جوانوں کے ساتھ کردستان آئے  اور کرد پیشمرگہ فورس کے ساتھ مل کر داعش کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کیا۔

تسنیم: امریکی حکام نے سرکاری سطح پر جنرل سلیمانی کو شہید کرنے کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہم نے دنیا کا خطرناک ترین دہشت گرد کو مار دیا ہے! کیا جنرل سلیمانی دہشت گردتھے یا مظلوموں کے حامی اور دہشت گردوں کے قاتل؟

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو بھی ملک، تنظیم یا شخص امریکی پالیسی کو نہ مانے وہ اسے دہشت گرد کہتے ہیں، ایک زمانہ ایسا تھا کہ امریکی متحدہ عرب امارات کے سخت مخالف تھے جب وہاں کے اعلیٰ حکام نے امریکی پالیسیوں پر لبیک کہنا شروع کردیا تو آج وہ امارات کے نہایت قریبی دوست ہیں۔ امریکا اب متحدہ عرب امارات کو بھائی کہتا ہے۔

 امریکی حکام انہی کو دوست سمجھتے ہیں جو ان کے منافع کو نقصان نہ پہنچائے۔ اگر آپ اپنے منافع کی بات کریں گے تو وہ آپ کو دہشت گرد کہیں گے۔

شہید جنرل سلیمانی کی سربراہی میں ایران نے دہشت گردوں کے خلاف عراقی حکومت اور عوام کی زبردست مدد کی۔ اگر جنرل سلیمانی اور ایران نہ ہوتے تو اس وقت بغداد اور دمشق پر داعش کا قبضہ ہوتا۔

تسنیم: جب آپ نے جنرل سلیمانی کی شہادت کی خبر سنی تو کیا محسوس کیا؟

محمد حاج محمود: یہ خبرمیرے لئے غیر متوقع نہیں تھی، مجھے معلوم تھا سلیمانی نے شہید ہونا ہے وہ یمن، لبنان، بغداد، اربیل، سلیمانیہ غرض جہاں داعشی دہشت گرد تھے وہاں پہنچ جاتے تھے۔ ان کی شہادت کی خبرغیرمتوقع نہیں تھی لیکن بڑی درناک تھی کیونکہ وہ ہمارے محسن تھے۔

 ترجمہ و ترتیب: غلام مرتضی جعفری

 

 

 

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری