پاک افغان سرحد بند کرنے کا فیصلہ


کورونا وائرس کے باعث سخت حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے پاک افغان سرحد چمن کو کل سے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق،  وزرات داخلہ کے مطابق چمن بارڈر افغانستان میں کورونا وائرس کے باعث بند کیا جا رہا ہے، جو 2 مارچ سے ایک ہفتے کے لیے بند رہے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران آمدورفت کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں بھی معطل رہیں گی۔

اس کے علاوہ پاک افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی اضلاع میں کورونا وائرس سے شہریوں کو بچانے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے ہیں اور ڈی ایچ کیو اسپتال پاراچنار میں آئسولیشن وارڈز قائم کردیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان کے وزیرِ صحت فیروزالدین فیروز نے رواں ہفتے صوبے ہرات میں 3 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق کی تھی جس کے بعد پاکستان نے حفاظتی انتظامات کے لیے مزید کمر کس لی تھی۔

پاک افغان سرحد باب دوستی پر میڈیکل ٹیکنیشن ٹیم ریڈ کریسنٹ اور پی پی ایچ آئی کے تعاون سے لوگوں کی اسکریننگ کا عمل جاری ہے۔

ادھر طورخم بارڈر پر بھی میڈیکل چیک پوائنٹ قائم کردیا گیا ہے اور افغانستان سے آنے جانے والوں کی اسکریننگ کا سلسلہ جاری ہے۔

پاک افغان دوستی اسپتال طورخم میں آئسولیشن وارڈ قائم کیا گیا ہے جب کہ لنڈی کوتل اور جمرود اسپتالوں میں بھی آئسولیشن وارڈ قائم کیے گئے ہیں، طورخم میں عملے کو ایمبولینس بھی فراہم کی گئی ہے۔

محکمہ صحت اور نیشنل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ کا عملہ تھرمل اسکینرز کے ذریعے بخار کے مریضوں کا معائنہ کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ پاک ایران سرحد 6 دن بندش کے بعد کھول دیا گیا ہے۔ اعلی حکام کا کہناہے کہ ایران میں موجود تمام پاکستانی شہریوں کے ملک میں داخلے کو یقینی بنایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ حکومت بلوچستان نے ایران سے آنے والے شہریوں کو قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جبکہ پاکستانی شہریوں نے تفتان میں حکومتی انتظامات کو غیرتسلی بخش قرار دیا ہے۔