کرونا وائرس: عالمی معیشت نہایت خطرناک حالات سے دوچار


کرونا وائرس: عالمی معیشت نہایت خطرناک حالات سے دوچار

ماہرین کا کہناہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی معیشت خطرناک صورتحال سے دوچار ہونے والی ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں پھیلنے والے جان لیوا کرونا وائرس کے باعث تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی جاری ہے، 4 برسوں کے دوران تیل کی قیمت میں ریکارڈ کمی سامنے آرہی ہے۔

ماہرین کا کہناہے کہ کرونا وائرس پر قابو نہ پایا گیا تو عالمی معیشت خطرناک صورتحال سے دوچار ہوسکتی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا کہناہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے عالمی معیشت پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

صدر پیوٹن نے تیل کے نرخوں میں ریکارڈ کمی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ نرخوں میں کمی کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا تاہم صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنا ہوگی۔

عالمی میڈیا کے مطابق کرونا وائرس کی وجہ سے تیل کے نرخ 1 برس کے دوران انتہائی نچلی سطح پر آگئے ہیں جبکہ تیل نرخوں میں کمی کا 4 سالہ ریکارڈ ٹوٹنے کے قریب ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور اتحادی تیل پیداوار میں بڑی کمی کریں گے، اوپیک پلس نے بتایا کہ وہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ذمہ دارانہ فیصلہ کرے گی۔

اوپیک کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ تیل کے نرخوں میں تیزی کے ساتھ آنے والی گراوٹ کو روکنے کی کوشش کرے گی۔

ادھرکرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان، ایران اور افغانستان کے درمیان تجارت کا سلسلہ بھی بند ہوکررہ گیا ہے جس کی وجہ سے ہمسایہ ممالک کو روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں کا نقصان ہورہا ہے۔

تفتان میں موجود پاکستانی تاجر برادری کا کہناہے کہ فوری طورپر تجارت کی سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں تو ناقابل تلافی نقصانات ہوں گے۔

 

 

اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری