کراچی، چینی کمپنی کا جدید ترین ٹرانسپورٹ سروس متعارف کرانے کا اعلان
پاکستان کے سب سے بڑے اور صنعتی شہرکراچی میں جدید ترین ٹرانسپورٹ سروس متعارف کرانے کےلئے چینی کمپنی 60کروڑڈالر سرمایہ کاری کرےگی۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے مالی تعاون سے ٹرانسپورٹیشن منصوبوں کا مستقبل تاحال غیریقینی نظر آنے کے باعث مذکورہ شعبے میں بڑھتے طلب اور رسد کے وسیع فرق کو پورا کرنے کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے پاس اپنے کاروبار کو پھیلانے کا اہم موقع ہے۔
اسی فرق کو پورا کرنے کے لیے چین کی ایک بڑی ٹیکنالوجی کمپنی کراچی میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کرنے کو تیار ہے۔
اس سلسلے میں سرکاری اور مارکیٹ ذرائع کا کہنا تھا کہ چینی کمپنی کراچی میں ڈیلیوری اور رائڈ ہیلنگ کیب (یعنی سواری) سروس شروع کرنے والی ہے اور اس کا ملک میں 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔
ڈان اخبار نے خبر دی ہے کہ اسلام آباد میں پہلے قدم رکھنے کے بعد چینی کمپنی ٹائم سیکو اب اپنے ٹٰیٹو موبلٹی آپریشن کو کراچی تک بڑھانے کے لیے تیار ہے اور ابتدائی طور پر رواں ماہ 2 سروسز متعارف کروائی جائیں گی، اس طرح یہ ملک بھر میں نصف درجن ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے موجود کئی رائڈ ہیلنگ سروسز میں شامل ہوجائے گی۔
تاہم کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی سروسز پہلے سے موجود آپریٹرز سے معتدد محاذوں پر مختلف ہوگی۔
اس حوالے سے مذکورہ کمپنی کے بانی اور کمپنی کے سی ای او ڈونلڈ لی کا کہنا تھا کہ 'ٹیٹو موبلٹی پہلے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹائم سیکو کے نام سے اپنی آن لائن کیب سروس متعارف کرواچکی ہے'۔
انہوں نے کہا کہ 'ٹیٹو موبلٹی دیگر شہروں میں بھی اپنا آپریشن شروع کرنے جارہی ہے اور ٹیٹو موبلٹی پاکستان میں آن لائن کیب سروس اور موجودہ ٹرانسپورٹیشن کے نیٹ ورک کی ڈیجیٹائزیشن شروع کرے گی'۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'ہم رواں ماہ کراچی میں اپنی سروس متعارف کروانے کو تیار ہیں'۔
ڈونلڈ لی کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں کمپنی کا اپنی آن لائن کیب سروس اور موجودہ ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی ڈیجیٹائزنگ کے لیے سسٹم متعارف کروانے کا ارادہ ہے، جس کے بعد رواں سال کے آخر میں کمپنی کا اپنی کمیوٹ اور ڈیلیوری سروز متعارف کروانے کا بھی منصوبہ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ شہر کیا موقع فراہم کر رہا ہے اور کس طرح ایک نیا آپریٹر ایک ایسے ماحول میں رہ سکتا ہے جہاں مقابلہ بڑھ رہا ہے اور پہلے سے موجود کئی کمپنیاں کامیابی کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں، اس پر انہوں نے ان پیش کشوں کا ذکر کیا جو چینی کمپنی اپنے کاروباری شراکت داروں کو دینے کا ارادہ کر رہی ہے اور یہ دوسروں سے الگ ہوں گی۔
ڈونلڈ لی کا کہنا تھا کہ 'ٹیٹو موبلٹی اپنی آن لائن کیب سروس کے ڈرائیور یا کیپٹنز کو کمائی کے 97 فیصد حصص کی پیشکش کرتی ہے (جبکہ) دیگر کمپنیاں 70 سے 75 فیصد کی پیش کش کر رہی ہیں'۔
انہوں نے کہا کہ ہم مقابلہ کا سامنا کر رہے ہیں لیکن ہماری توجہ صرف منافع کی طرف نہیں ہے، ٹیٹو موبلٹی موجودہ ٹرانسپورٹ کے نظام کی تنظیم نو اور ڈیجیٹائز کرنا چاہتی ہے'۔
ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ابتدائی طور پر ٹیٹو موبلٹی پاکستان میں 60 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے اور مارکیٹ کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاری میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ کیا جائے گا'۔
نجی شعبے اور بڑی کاروباری کمپنیوں کی جانب سے دکھائی جانے والی گہری دلچسپی یہ ثابت کرتی ہے کہ جب کراچی میں ٹرانسپورٹ سروس کی بات ہو تو اس میں بہت مواقع موجود ہیں۔
تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس شعبے میں نجی کاروباروں کی جانب سے سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ وہ فرق موجود ہے جو پبلک سیکٹر ٹرانسپورٹ سروس کی جانب سے پوا کیا جاسکتا ہے۔






