ڈی آئی خان میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں دو افسران معطل


ڈی آئی خان میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں دو افسران معطل

اعلی حکام نےگومل یونیورسٹی میں جنسی ہراسگی کیسوں میں ملوث یونیورسٹی ملازمین کے خلاف سخت ایکشن لیتے ہوئے دو افسران کو نوکری سے فارغ کردیا ہے۔

  تفصیلات کے مطابق گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان زرائع کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا، سیکرٹری ایچ ای ڈی، ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کی طرف سے بار بار کہا جا رہا تھا کہ جنسی ہراسگی کیسوں میں ملوث ملازمین کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جا رہا ہے۔

 جنسی ہراسگی کیسوں پر ایکشن نہ لینا کچھ انتظامی امور کی وجوہات کی بناء پر تھی۔ مگر جب اعلیٰ حکام سے سختی ہدایت موصول ہوئیں تو اس پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان انتظامیہ نے 2 پروفیسرز، گیم سپروائزر اور لیب اٹینڈنٹ کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔

برطرف ہونے والوں میں پروفیسر ڈاکٹر بختیار خٹک، اسسٹنٹ پروفیسر عمران قریشی، گیم سپروائزر حکمت اللہ اور لیب اٹینڈنٹ حفیظ اللہ شامل ہیں جبکہ روح الامین، فاروق عالم و دیگر ملوث ملازمین کی خلاف انکوائریاں پر بھی عمل ہو رہا ہے اور باقی بھی بہت جلد اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔

 یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق گورنر انسپکشن ٹیم کے ایک ایک پوائنٹ پر عمل درآمد ہو گیا اور جنسی ہراسمنٹ اسکینڈل میں ملوث ملازمین کو جو جو سزاء جس طریقے سے تجویز کی گئی تھی اس ترتیب کے مطابق سارا کام مکمل ہو چکا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں گومل میڈیکل کالج کا اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد طالبات کو جنسی ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا  گیا ہے۔ ڈی پی او کی ہدایت پر ایس ایچ او تھانہ ڈیرہ ٹاؤن نے گرفتار کر لیا۔ اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد نے ایس ایچ او تھانہ ڈیرہ ٹاؤن کے سامنے اپنے تمام گناہوں کا اعتراف کرلیا.

اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری