سارے ادارے چور ہیں، کوئی کام نہیں کر رہا: چیف جسٹس


پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں عمارت کے منہدم ہونے کے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق پاکستان کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی میں عمارت کے منہدم ہونے کے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ سارے ادارے چور ہیں، کوئی کام نہیں کر رہا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کراچی رجسٹری چیف جسٹس گلزار احمد کی سر براہی میں3رکنی بینچ کراچی میں تجاوزات سے  متعلق کیسز کی سماعت کررہا ہے۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین عدالت میں پیش ہوئے۔

 چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ اداروں میں صفایا کرنا ہوگا یہ ایسےٹھیک نہیں ہوں گے، کل جو لوگ مرے، ان کا ذمہ دار کون ہے؟ بلڈنگ گرگئی، آپ سب سکون سےسوئے ہیں، کسی کے کان پر جوں تک رینگی؟

سانحہ گلبہار سے متعلق چیف جسٹس پاکستان نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کل جو لوگ مرے، ان کا ذمہ دار کون ہے؟ کسی کو احساس بھی ہے لوگ مر رہے ہیں؟ نیوزی لینڈ میں واقعہ ہوا تو وزیراعظم تک کو صدمہ تھا۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم ایک ہفتے تک نہیں سوئی تھی۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس میں کہا کہ چھوٹے چھوٹے پلاٹس پر اونچی عمارتیں بنا دیتے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل کا کہنا تھا ہم نے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کی ہے تو جسٹس سجاد علی شاہ نے مزید کہا یہ سب دکھاوے کیلئے کارروائی کی گئی ہے۔ ہم نے کہا تھا غیرقانونی تعمیرات کا مکمل ریکارڈ دیں اس کا کیا ہوا؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ رپورٹ تیار کرلی ہے۔

چیف جسٹس کا حکام پر برہمی پر اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا جب تک اوپر سے ڈنڈا نہ ہو کوئی کام نہیں کرتا، آپ لوگوں کو کراچی کا کچھ پتہ ہی نہیں، کیماڑی کا پل گرنے والا ہے، کچھ احساس ہے؟ اگر کیماڑی پل گر گیا تو کراچی سے تعلق ہی ختم ہو جائے گا۔

عدالت نے سماعت 26 مارچ تک ملتوی کر کے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

یاد رہے کہ 5 مارچ کی شب کو کراچی کے گنجان آباد علاقے گولیمار میں عمارتیں زمین بوس ہونے سے ملبے تلے دب کر بچوں اور خواتین سمیت 17 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اب بھی کچھ افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔