پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلباء کے الزامات مسترد کردیے
پنجاب یونیورسٹی میں مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم طلبا نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہیں خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے پر پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔
تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزام حقیقت پر مبنی نہیں اور انتظامیہ نے زبانی یا تحریری طور پر ایسے کوئی احکامات جاری نہیں کیے۔
طلبہ کے بقول انہیں یہ پیغامات دئیے جا رہے ہیں کہ "عورت مارچ" یا اپنی "ڈگری" دونوں میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کر لیں۔
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات میں زیر تعلیم طالب علم اور "طلباء یکجہتی مارچ" کے منتظمین میں شامل رائے علی آفتاب کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو نامی طلبہ تنظیم میں شامل مختلف شعبہ جات میں زیر تعلیم طلبا و طالبات نے عورت مارچ سے متعلق 5 مارچ کو مباحثے کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔
جس کے بعد انہیں یونیورسٹی کے رجسٹرار اور چیف سکیورٹی آفیسر کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔
علی آفتاب کا کہنا یونیورسٹی لائبریری میں اس مباحثے کا مقصد عورت مارچ کے منشور میں شامل نکات پر بحث کرنا تھا جن سے پنجاب یونیورسٹی کی طالبات خود کو درپیش حالات کا موازنہ کر سکتی ہیں۔‘
علی آفتاب کہتے ہیں کہ گذشتہ روز انہیں شعبہ عمرانیات کی خاتون سربراہ کی جانب سے طلب کر کے یہ کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بین الاقوامی درجہ بندی آ رہی ہیں آپ لوگ یہ نہ کریں، ہم پر دباؤ ہے، رجسٹرار کہہ رہے ہیں کہ ہم شعبہ عمرانیات کو بند کر دیں گے کیونکہ آپ یہاں پر اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت دیتے ہیں۔
پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کی ایک کارکن طالبہ نے بتایا وہ عورت مارچ کے حوالے سے طالبات کو فعال کرنے پر کام کر رہی تھیں، تو گذشتہ روز انہیں طالب علموں اور انتظامیہ کے درمیان رابطوں کی ذمہ دار شخصیت نے ایک تنبیہی پیغام دیا۔
انہوں نے کہا میں خود کو یونیورسٹی میں عورت مارچ جیسی ریاست مخالف سرگرمیوں سے دور رکھوں، ورنہ انتظامیہ میری تعلیمی اسناد جاری نہیں کرے گی اور واضح انداز میں کہا گیا کہ یا تو ڈگری لے لو یا عورت مارچ کر لو۔
ان کا کہنا تھا کہ پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے نام سے ان کی تنظیم نے پنجاب یونیورسٹی میں طالبات کو درپیش مسائل خصوصاً جنسی اور ذہنی ہراسانی، معاشی اور ماحولیاتی ناانصافیوں کے خلاف کام کرتی ہے۔ ہر جمعرات کو ان مسائل کا حل نکالنے کے لیے مباحثے کا انعقاد کرتے ہیں۔
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کے طالب علم محسن ابدالی کا کہنا تھا کہ مجھے سٹوڈنٹس افیئرز کے ڈائریکٹر نے گذشتہ روز بلا کر یہ کہا ہے کہ رجسٹرار آفس سے ہدایت ہے کہ ان سٹوڈنٹس سے پوچھ لیا جائے انہیں ڈگریاں چاہیے یا انہوں نے عورت مارچ کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے گذشتہ برس بھی عورت مارچ کے حوالے یونیورسٹی میں سختی کا ماحول تھا تاہم رواں برس طلبا و طالبات کو کھلے الفاظ میں دھمکایا جا رہا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ زراعت کے ایک اور طالب علم نے بتایا ہے کہ انہیں ایک تنظیمی عہدیدار نے کہا ہے بہت اعلیٰ سطح سے یہ کہا گیا ہے کہ طلبا و طالبات کو عورت مارچ جیسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکا جائے۔
انہوں نے کہا ابھی تو کال آئی ہے ممکن ہے کہ اس سے متعلق تحریری حکم نامہ بھی آ جائے، لہٰذا آپ محتاط رہیں ورنہ آپ کی ڈگری منسوخ کر دی جائے گی۔
طالب علموں کے جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد کیے جانے والے الزامات کے جواب میں ترجمان پنجاب یونیورسٹی خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ طالب علموں کے الزامات حقیقت پر مبنی نہیں اور نہ ہی انتظامیہ نے زبانی یا تحریری طور پر ایسے احکامات دئیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی مخصوص طالب علموں کی جانب سے مختلف دعوے کیے جاتے رہے ہیں، جو تحقیقات میں جھوٹے ثابت ہوئے۔ ترجمان پنجاب یونیورسٹی کا کہنا تھا عورت مارچ سے یونیورسٹی میں کسی بھی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ یہ ادارے سے باہر منعقد ہونے والا ایونٹ ہے۔