پاکستان اور امریکا کے درمیان فضائی رابطہ، امریکی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی


پاکستان اور امریکا کے درمیان فضائی رابطہ، امریکی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کو واشگنٹن کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کی کلیئرنس امریکی کلیئرنس درکار ہے اور اس مقصد کے لیے امریکی ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (ٹی ایس اے) کی ٹیم گزشتہ روزاسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گئی۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ٹیم جائزہ رپورٹ مرتب کرے گی جس کی بنیاد پر پی آئی اے کو واشنگٹن کے لیے براہ راست پروازیں جاری کرنے کی اجازت مل سکے گی۔

ذرائع کے مطابق یہ ٹیم جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی اور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کا بھی دورہ کرے گی۔

توقع ہے کہ امریکی ٹیم ایوی ایشن کے سیکریٹری ناصر حسین جیمی سے ملاقات میں ایوی ایشن اور سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرے گی۔

ممکنہ طور پر پی آئی اے رواں سال مئی سے امریکا کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرے گی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیم تینوں ہوائی اڈوں کے سیکیورٹی آڈٹ کے بعد اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔

امریکی انتظامیہ اور پی آئی اے کے مابین گزشتہ دو برس سے بات چیت جاری تھی۔

پی آئی اے نے تین بڑے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ مشینوں کے استعمال سمیت امریکی حکام سے طلب کردہ تمام اقدامات اٹھائے ہیں۔

امریکی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے وفد نے اس سے قبل حتمی سیکیورٹی آڈٹ ٹیم کی آمد سے قبل پاکستان کا دورہ کیا تھا۔

پی آئی اے نے ایک فلائٹ پلان تیار کیا جس کے مطابق ابتدائی طور پر ہفتے میں 3 پروازیں نیویارک کے لیے چلائی جائیں گی لیکن بعد میں اس تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکا نے کسی ایسی براہ راست پرواز کی اجازت نہیں دی تھی جو پاکستانی ہوائی اڈے سے اس کی فضائی حدود میں جانے والی ہو۔

یہ پہلا موقع ہوگا جب پی آئی اے پاکستان سے امریکا کے لیے اپنی براہ راست پروازیں شروع کرے گی۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2017 میں پی آئی اے نے بڑھتی ہوئی آپریٹنگ لاگت اور اس کا سامنا کرنے والے نقصانات کو کم کرنے کی غرض سے امریکا کے لیے اپنی پروازیں بند کردیں تھیں۔

اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری