زائرین کے ساتھ بدترین سلوک؛ مسجد کی صفیں، ہوٹل کی کرسیاں جلا دی گئیں
شیعیان حیدر کرار نے حکومت وقت سے فوری طور پر زائرین کے ساتھ متعصبانہ رویے کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ملک بھرمیں زائرین کے خلاف نہایت منفی تبلیغات کاسلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے پوری قوم اذیت کا شکار ہے۔
تفتان سے لے کر ملک کے بھرکے مختلف شہروں میں زائرین امام حسین علیہ السلام سے حکومتی اداروں کا رویہ ناقابل تحمل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ادارے کورونا وائرس کے روک تھام کے آڑ میں زائرین کے ساتھ امیتازی سلوک کررہے ہیں، زائرین کی تذلیل کی جارہی ہے اور پاکستانی قوم کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں کورونا زائرین کی وجہ سے آیا۔
زائرین کا کہنا ہے کہ ایران سے تفتان پہنچنے پر انہیں 14 دن قرنطینہ میں رکھا گیا جس کے بعد انہیں صوبائی حکومتوں کے حوالے کرکے دوبارہ قرنطینہ میں رکھنے کا اعلان کیا جا رہا ہے۔
زائرین حکومتی اداروں سے تعاون کررہے ہیں جبکہ حکومتی اہلکار زائرین کے ساتھ بدترین سلوک کررہے ہیں اور ان کی توہین کی جارہی ہے۔
ادھرایران سے آنے والے8بسوں پر مشتمل زائرین کے قافلے کوسخت سیکیورٹی انتظامات میں خیبرپختوا بھجوادیا گیا ہے بلوچستان کی پولیس نے انہیں کڑے پہرے میں بلوچستان کی حدود سے پنجاب کے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں داخل کیا، ڈیرہ غازی خان ڈویژن اور فیصل آباد ڈویژن کی حدود میں8بسوں پر مشتمل اس قافلہ کی 35خواتین اور200مردوں کو گاڑیوں سے نیچے نہیں اترنے دیا گیا اور زائرین کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کیا گیا۔
راولپنڈی ڈویژن کی پوری انتظامیہ، پولیس افسران،محکمہ ہیلتھ کے افسران،سکیورٹی حکام اتوار کی رات11بجے سے پیر کی صبح ساڑھے 11 بجے تک کلر کہار موٹر وے پر موجود رہے جونہی اس قافلہ کی گاڑیاں کلر کہار پہنچیں انہیں سخت پہرے میں دور دور تک فاصلہ میں گاڑیوں سے نیچے اتار کر کھانا دیا گیا۔
خواتین، مردوں کو ملحقہ ہوٹل،چھوٹی سی مسجد میں واش روم جانے، نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی اور فیملیز نے یہاں کپڑے تبدیل کئے،کھانا کھایا، زائرین کے بسوں میں سوار ہوتے ہی مسجد کی صفیں، چھوٹے ہوٹل کے بنچز،کرسیاں جلا دی گئیں،اور ہوٹل مسجد کو کارڈن آف کر دیا گیا۔
بعدازاں پولیس گاڑیوں کے حصار میں ان تمام فیملیز کو راولپنڈی کی حدود سے نکال کر گھر دیامیر کے پی کے جانے کی اجازت دے دی گئی۔