کورونا وائرس: بھارت کے بعد پاکستان میں بھی ٹرین کی کوچز آئسولیشن وارڈ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ
پاکستان ریلوے نے تمام بزنس کلاس اور ایئرکنڈیشنڈ سلیپر کوچز کو موبائل آئسولیشن وارڈز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں 2 ہزار کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج ممکن ہوسکے گا۔
تسنیم خبررساں ادارے کےمطابق، پاکستان بھر میں مسافر بردار ٹرینیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل ہیں جبکہ پاکستان ریلوے نے تمام بزنس کلاس اور ایئرکنڈیشنڈ سلیپر کوچز کو موبائل آئسولیشن وارڈز میں تبدیل کردیا جس میں 2 ہزار کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج ممکن ہوسکے گا۔
ادھربھارت نے لاک ڈاؤن کے سبب ملک بھر میں ٹرین سبب ٹرانسپورٹ کے تمام ذرائع پر بھی پابندی عائد کردی ہے اور اسی وجہ سے ٹرین کی کوچز کو قرنطینہ سینٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارت میں اب تک ایک ہزار 71افراد کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ خطرناک وائرس کی زد میں آ کر 29افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھارت میں کورونا وائرس کے ممکنہ بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر حکام نے ریلوے کوچز کو آئسولیشن وارڈ بنانے کی تیاری شروع کردی تھی۔
وزیر ریلوے شیخ رشید نے راولپنڈی اسٹیشن پر صحافیوں کو بتایا کہ متعلقہ حکام کی درخواست پر مذکورہ موبائل آئسولیشن وارڈز کو ملک کے کسی بھی حصے میں بھیج دیا جائے گا۔
انہوں نے اس ضمن میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر220 کوچز کو موبائل آئسولیشن وارڈ میں تبدیل کیا گیا ہے جبکہ ہر کوچ کے 9 کمپارٹمنٹ ہوتے ہیں اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی کمپارٹمنٹ میں 9 وارڈز دستیاب ہیں۔
علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلویز ساتوں ڈویژنوں راولپنڈی، پشاور، لاہور، کراچی کوئٹہ، سکھر اور ملتان میں 100/100 بستر دستیاب ہیں، ہر ایک میں ایک وینٹیلیٹر موجود ہے۔
شیخ رشید کا کہنا تھاکہ پاکستان میں صورتحال اتنی خراب نہیں ہے جتنی اٹلی، اسپین یا امریکا میں ہے۔
واضح رہے کہ وزارت ریلوے نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر مسافر ٹرینیں تاحکم ثانی معطل کردی ہیں جبکہ فریٹ ٹرینیں پورے ملک میں چل رہی ہیں۔
اس ضمن میں شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ 'ہم کل سے مسافر ٹرینیں نہیں کھول رہے، یہ ہدایت گزشتہ روز کور کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے دی ہے، پہلے ہمارا خیال تھا کہ ہم یکم اپریل سے مسافر ٹرینیں چلانا شروع کردیں گے لیکن وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ یہ ٹرینیں تاحکم ثانی معطل رہیں گی۔'