افغانستان؛ کورونا وائرس سے 6 لاکھ افراد ہلاک ہونے کا خدشہ


افغانستان؛ کورونا وائرس سے 6 لاکھ افراد ہلاک ہونے کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ خانہ جنگی کا شکار اور اقتصادی بدحالی سے دوچار افغانستان کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، حالیہ دہائیوں میں خانہ جنگی اور غیرملکی افواج کے حملوں میں سب سے زیادہ نقصانات اٹھانے والا ملک اب کورونا وائرس کے حملوں کے زد میں آچکا ہے۔

35 میلین آبادی والا ملک افغانستان جہاں صحت کے امکانات بہت محدود ہیں کرونا پھیلاو کا خطرہ موجود ہے اور جنگ زدہ ملک کے لیے ایک اور تباہ کن مسلہ سامنے آسکتا ہے۔

35 ملین آبادی پر مشتمل ملک میں عوام کی اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورہے۔

اب سوال یہ ہے کہ غربت، جنگ اور سیاسی بحران سے دوچار ملک، کورونا وائرسے لڑنے کی سکت رکھتا ہے؟ کیا افغانستان واقعی کورونا سے لڑنے کے لئے تیار ہے؟

عالمی ادارہ صحت سمیت دیگرعالمی ادارے پیش گوئی کرتے ہیں اگر دنیا نے افغانستان پر فوری طور پر توجہ نہ دی تو اس ملک میں کم سے کم 6لاکھ افراد ہلاک ہوجائیں گے۔

دوسری جانب، افغان وزیر صحت نے ننگرہار میں کورونا تشخیصی لیبارٹری کے افتتاح کے موقع پر وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بین الاقوامی امداد کا مطالبہ کیا

افغانستان میں محکمہ صحت کے فراہم کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ، 140 سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں.

افغانستان کی وزارت صحت نے بتایا کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت 13 سے زیادہ صوبوں میں کورونا کے مثبت کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اگر شہری صحت اور طبی مشوروں پر عمل نہیں کرتے ہیں تو متاثرہ افراد کی تعداد میں خوفناک اضافہ ہوگا۔

دوسری طرف نیٹو جنرل سیکریٹری«ینس اسٹولٹنبرگ» نے افغانستان میں کرونا خطرے کے پیش نظر تشدد و جنگ عارضی طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ینس اسٹولٹنبرگ نے ملک میں کوویڈ 19 کے پیش نظر امدادی کاموں میں تعاون کے حوالے سے تشدد آمیز کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ۔

واضح رہے کہ افغانستان میں اس وقت 16 هزار نیٹو فورسز موجود ہیں۔

ینس اسٹولٹنبرگ نے موجودہ حالات کو کرونا سے مقابلے کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح ایک المیہ جنم لے سکتا ہے۔

کرونا سے بچاو کے لیے ملک کے مختلف جیلوں سے  10 ھزار معمولی جرائم والے افراد کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری