بصیرت کا امتحان

بصیرت کا امتحان

جونہی  لفظ ِ’’بصیرت ‘‘ ادا ہوتا ہے تو یہ اپنے پہلو میں بہت سے مطالب کو سمیٹ لاتا ہے۔

بصیرت یعنی عالم بزمان،دُوراندیشی، رہبر شناسی، ضرورت کی شناخت،اولویّت کی شناخت، دشمن شناسی ، دوست شناسی  اور اس وسیلہ کی شناخت کہ جس کو دشمن کے مقابل استعمال کرنا ہے۔جو عالم بزمان ہوتا ہے وہ شبھات،جہالتوں اور نادانیوں کی وادی میں نہیں بھٹکتا بلکہ اس کو  اچھی طرح ادراک ہوتا ہے کہ زمانہ کی حرکت کس طرف ہے اور مجھے اس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔یعنی کہاں  اسلحہ استعمال کرنا  ہے،کہاں زبان استعمال کرنی ہے ،کہاں سکوت درست ہے اور کبھی تو وہ مرحلہ بھی آتا ہے کہ پیشوا  حکم فرما دے  کہ آج رات بستر پر سونا ہے تو وہی فریضہ ادا کرنے کیلئے  رہبر شناس ، اس انداز میں سوتا ہے کہ پھر مرضات ِ الٰہی کی  آیت اس کو سند ِقبولیت بخشتی ہے۔

’’اور انسانوں  میں سے کوئی ایسا  بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی میں اپنی جان  بیچ ڈالتا ہے اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے(بقرہ 207) زمانے کی شناخت اور رہبر  و پیشوا کی اطاعت  وہ نسخۂ کیمیا ہے جو انسان کو منزلِ مقصود تک لے جانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تاریخ کی بوڑھی آنکھوں نے وہ کردار بیان کئے ہیں کہ جنہوں نے اپنے زمانے  میں بصیرت کا درست استعمال کیا تو کس منزلِ کمال  پر ٖفائز ہوئے اور کون سے ایسے افراد تھے  کہ جن میں جوش و ولولے کی بھی کمی نہیں تھی ۔  جان تو دی لیکن وہ مقام حاصل نہ کر سکے جو   اُن بابصیرت  اور وقت شناس پیروکاروں کو نصیب ہوا۔جان  کربلا والوں نے بھی دی اور توّ ابین نے بھی ۔لیکن فرق ہمارے  سامنے عیاں ہے۔

ہم آج جس دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں ان لوگوں کے بارے میں  تجزیہ و تحلیل کرنا کتنا آسان ہے کہ جمل و صفین و نہروان میں موجود لوگ حق کو کیوں نہ پہچان سکے اور حق کے نمائندے کے مدِّ مقابل کیسے  صف آراء ہوئے۔جب آج کے فتنوں کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں تو  سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ’’یا لیتنی‘‘ کہنے والے آج کس لشکر کے سپاہی ہیں ۔ہمارے سامنے آج بھی  وہی دو لشکر مد مقابل ہیں ۔

کربلا نہیں لیکن ،جھوٹ اور صداقت میں

کل بھی جنگ جاری تھی اب بھی جنگ جاری ہے

آج جس وبا کے مقابلے  پوری دنیا  بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اس کیساتھ ساتھ اس نے ہم سب کو ایک دفعہ محاسبے کا مو قع دیا ہے۔جن میں ایک رہبر شناسی اور اس کی اطاعت ہے ۔امیرِ شام اور اس کا مشیر ِخاص  اس امید پر کہ جب تک علی ؑ کے لشکر میں جاہل اور خشک مقدس لوگ موجود ہیں ۔جنگ کا نقشہ بدلا جا سکتا ہے۔آج بھی ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں کہ شھید قاسم سلیمانی کا   وصیت نامہ جھنجھوڑ رہا ہے کہ رہبر  کی اطاعت او پیروی  لازم ہے‘‘۔ ایسا نہ ہو کہ خوارج کی طرح ظاہر بین بنیں اور وقت کے رہبر کو مشورے دینے لگیں۔جیسا کہ ابھی شواہد ملنا شروع ہو گئے ہیں کہ  وائرس  کا حملہ ایک  سوچی سمجھی سازش تھی تو یہ  پہلو بھی ذہن  میں رہے کہ  دشمن اس  وبا سے جہاں کئی اھداف کو حا صل کرنا  چاہتے تھا  وہاں ایرانی قوم کو ایک دوسرے کے مقابل لانا بھی تھا۔( یعنی سائنس اور مذہب کی جنگ )ایرانی قوم کی اہل بیت ؑسے عقیدت اور قلبی  لگاؤ کا دشمن کو اچھی طرح اندازہ ہے ۔اگر رہبر وزارت صحت اور اس کے متعلقہ اداروں  کی مکمل پشت پناھی نہ کرتے تو یہی انسانی حقوق کے ٹھیکیدار ایسے بیانات داغتے کہ ابھی  جو  میڈیا وار  ہو  رہی ہے ہم اس کو بھول جاتے اور یہ رہبر ِمعظّم کی بصیرت ہی تھی کہ جس نے  اس کو ناکام  کیا۔اور جو دوست اور مومن اپنے عشق کا اظہار  اس انداز میں کر رہے ہیں کہ  حرم کا بند ہونا درست نہیں  تو یقینا یہ ہماری  بصیرت  کا امتحان ہے ۔ اگرچہ  اسے عشق کا نام دیا جاتا ہے  لیکن یہ بات ذہن نشین رہے دین جزبات و احساسات کا نام نہیں بلکہ اطاعت کا نام ہے۔ بجائے اس کے کہ  ہم جزوی مسائل میں الجھیں ۔جب رہبر موجود ہیں تو ان سے زیادہ ہمیں بابصیرت بننے کی ضرورت نہیں ۔بلاوجہ تبصروں پر اپنے قیمتی وقت کو ضائع نہ کریں اور رہبر  کے ارمانوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں ۔

شکوۂ ظلمت ِشب  سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

موقع شناسی ضروری ہے ہم تاریخ کربلا میں دیکھتے ہیں کہ ایک مو قع آتا ہے کہ جب  خیام کو آگ لگتی ہے تو اما م علی ابن الحسین ؑسے امامت کا پہلا مسئلہ یہی پوچھا جاتا ہے کہ  جل جائیں یا باہر نکلیں تو جواب ملتا ہے پھوپھی اماں!جان بچانا واجب ہے۔ لیکن ابنِ زیاد کے دربار میں ایک لمحہ ایسا بھی آتا ہے  کہ جب امام کے دفاع میں بی بیؑ جان قربان کرنے کے لئے اپنے وقت کے امام ’’سیدالساجدین ؑ‘‘ کے لئے ڈھال بن  جاتی ہیں  ۔لہذا ایک پیروکار کو زمانہ شناس اور وظیفہ  شناس ہونا چاہئے۔کلامِ آخر یہی کہ’’بصیرت یہ نہیں کہ حتما امیر ِ شام کے خیمے کو اکھاڑ پھینکنا ہے بلکہ بصیرت یہ ہے کہ مالک     ؓخیمہ سے دس قدم کے فاصلے پر ہو اور علی ؑ کا حکم آئے کہ مالک     ؓ  واپس آجاؤ اورپیروکار  واپس آ جائے‘‘۔

تحریر۔ مقدر عباس

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری