کرونا، سائنسی وجوہات اپنی جگہ


کرونا، سائنسی وجوہات اپنی جگہ

دنیا بھر میں یہ خطرناک وائرس کیسے اور کہاں سے پیدا ہوا؟ یہ ایک قدرتی وائرس ہے یا حیاتیاتی اسلحہ؟ یہ وائرس کتنی تباہی پھیلائے گا؟

تسنیم خبررساں ادارہ: چین کےشہر ووہان سے کرونا وائرس شروع  ہوا،  دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا  اس کی لپیٹ میں آگئی۔ ممالک غیر معینہ مدت کے لئے بند ہو گئے۔ ایسی مثال تاریخ میں پہلے کبھی  نہیں ملتی۔ کورونا کو تیسری جنگ عظیم بھی کہا جا رہا ہے۔ نظام زندگی درہم برہم ہو گیا ہے۔ دنیا کے اقتصادی نظام پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔دنیا میں ایک جدید نظام کی تشکیل کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔
یہ تحقیقات بھی جاری ہیں کہ یہ خطرناک وائرس کیسے اور کہاں سے پیدا ہوا؟ یہ ایک قدرتی وائرس ہے یا حیاتیاتی اسلحہ؟ یہ وائرس کتنی تباہی پھیلائے گا ؟ دنیا میں کتنے لوگ متاثر ہوں گے؟ کتنے لوگ مارے جائیں گے؟ دنیا کے تمام ممالک اس کی روک تھام کے لئے پوری جدوجہد کر رہے ہیں۔ دنیا کے طاقتور ممالک میں کرونا وائرس کی ویکسین ایجاد کرنے کا مقابلہ چل رہا ہے۔ امید ہے جلد ہی اس کی ویکسین تیار کر لی جائے گی اور منظر عام پر بھی آ جائے گی۔
کرونا کی سائنسی وجوہات اپنی جگہ، لیکن انسان اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ دنیا میں کوئی بھی واقعہ جب رونما ہوتا ہے تو اس کے پیچھے کئی عوامل اور اسباب ہوتے ہیں۔ ہمیں اس متعلق سوچنا اور غور و فکر کرنا چاہئے کہ آیا اس وبا کا سبب خود انسان اور ان کے اعمال تو نہیں؟
جیسا کہ قرآن مجید میں پروردگار فرماتا ہے: اور تم پر جو مصیبت آتی ہے وہ خود تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے،[1] کیا ایسا تو نہیں  کہ  ہمیں شام، عراق، کشمیر، فلسطین اور یمن کے مظلوموں کی بددعا لگ گئی ہو؟ کیا یہ کہیں شام کے اس معصوم بچے کی آہ تو نہیں؟ جس نے کہا تھا کہ میں اوپر جا کر سب کچھ بتاوں گا۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ مظلوم کی آہ عرش کو ہلا دیتی ہے۔ کیا یہ اس لاک ڈاون کا نتیجہ تو نہیں جو کشمیر میں کئی مہینوں سے جاری تھا اور اب بھی ہے۔ یہ وادی اپنے شہریوں کے لئے جیل بن چکی ہے۔ اشیائے خورد و نوش ختم اور ادویات بھی دستیاب نہیں ہیں۔ دنیا کے اکثر ممالک خاموش تماشائی بنے رہے اور ان مظلوموں کے حق میں کسی نے آواز نہ اٹھائی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول بعض روایات میں مظلوم کی نفرین سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مظلوم کی بددعا سے ڈرو کیونکہ اس کی آہ براہ راست خدا تک پہنچتی ہے اور کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہوتی۔ [2] آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے: مظلوم کی نفرین سے ڈرو کیونکہ یہ چنگاری کی طرح آسمان کی طرف جاتی ہے۔[3]

عراق اور شام میں دنیا کے بدترین اور بدنام دہشتگرد گروہ داعش نے ایسے ایسے ظلم کئے کہ دنیا حیرت ذدہ ہو گئی۔ لاکھوں معصوم انسانوں کی جانوں سے کھیلا گیا۔ شام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ۔ داعش نے عراق اور شام میں ظلم کی انتہا کر دی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ معصوم بچوں اور خواتین کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ ماں باپ کے سامنے معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ انسانیت کٹتی مرتی رہی اور دنیا تماشا دیکھتی رہی اور بے فکر اپنے روزمرہ کے کاموں میں لگی رہی۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: ایسے گناہ جو عذاب کا سبب بنتے ہیں ان میں سے ایک ظلم ہے۔ [4]

2015 سے یمن میں ظلم و ستم کی داستانیں رقم کی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر آئے روز یمن کی مظلوم عوام پر بمباری کرتا ہے۔ ابھی تک 112000 لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ جن میں سے ایک لاکھ کے قریب عام شہری ہیں۔ ابھی تک 84700 بچے بھوک سے مر چکے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں اس کا حساب کون دے گا؟
  میرے خیال میں یمن اس وقت دنیا کی مظلوم ترین قوم ہے جو ننگے پاوں اپنا اور اپنے ملک کا دفا ع کر رہی ہے۔ یمن، فلسطین اور کشمیر سے بھی زیادہ مظلوم ہے کیونکہ فلسطین اور کشمیر کے حق میں ابھی بھی بعض مسلم ممالک آواز اٹھاتے ہیں لیکن یمن کے معاملے میں ایک یا دو اسلامی ممالک کے علاوہ باقی سب نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔

دوسرا یہ کہ فلسطین اور کشمیر پر یہود اور ہنود قابض ہیں جب کہ یمن پر ایک اسلامی ملک حملہ آور ہے۔ جس کے خلاف اسلامی ممالک آواز اٹھانے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ ہے۔ حالانکہ حجاز اور  آل سعود دو علیحدہ چیزیں ہیں۔ آل سعود ایک ظالم قبیلہ ہے جو حجاز پر قابض ہے۔جن کے ظلم کی داستان لمبی ہے۔ جس کا ذکر اس مقالے میں ممکن نہیں۔

سید حسن نصراللہ نے اپنے 3 شعبان کے خطاب میں یمن کے مظلومین کا ذکر  کرتے ہوئے فرمایا: کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ دنیا ان ظالم حکمرانوں کے خلاف ڈٹ جائے اور کہے کہ اب ختم کرو، بس بہت ہو گیا۔ کیا اب وقت نہیں کہ جنگوں کو ختم کیا جائے؟ کیا یمن کی غریب اور مظلوم عوام کا یہ حق نہیں کہ ان کے خلاف جاری جنگ اور ظلم و ستم ختم کیا جائے؟ آج یہ فریاد پہلے سے زیادہ زور دار ہونی چاہئے۔ اب یہ وقت نہیں کہ کہا جائے کہ یہ ذاتی یا سیاسی جنگ ہے۔ اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ آج انسانیت کی خاطر پوری دنیا کو فریاد بلند کرنی چاہئے۔سعودی عرب، اس کے اتحادی اور حواریوں سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ یمن کی مظلوم عوام کے خلاف جنگ کو ختم کرو۔ پھر آپ نے سید عبدالمالک بدرالدین حوثی کا شکریہ ادا کیا اور خراج تحسین پیش کیا کہ جنہوں نے جنگی قیدیوں کے تبادلے کی بات کرتے ہوئے اپنے ملک کے اسیر آل سعود کے قبضے میں ہونے کے باوجود مظلوم فلسطینی اسیروں کی رہائی  کی بات کی۔[5]
دنیا اس طرح خاموش ہے جیسے  دنیا والوں کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ آج تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے لئے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ یمن جنگ کے خاتمے کا اعلان کرے اور اپنے آپ کو اس دلدل سے نکال لے۔
اگر یہ دنیا والے اب بھی ظالموں کے مظالم پر زبان نہیں کھولتے تو پھر کورونا ٹل بھی جائے، یہ لاک ڈاون ختم بھی ہوجائے، ہمیں اس سے بڑی وبا اور بلا کا انتظار کرنا چاہیے۔ چونکہ ظلم رزق کو تنگ اور عمر کو کم کردیتا ہے۔

✍️تحریر و تحقیق: رضوان نقوی


[1] ۔(شوری، 30)
[2] (مکاتیب الرسول، ج2، ص599)
[3]  (کنزالاعمال، 7602)
[4] (معانی الاخبار، ص270، ح 2)
[5] (28 مارچ 2020)

 

اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری