ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ذخیرہ اندوزوں اور اسمگلروں کیخلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت کی ہے۔
خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، وزیراعظم عمران خان نے اشیائے ضروریہ کی ذخیزہ اندوزی، اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملک کے خفیہ اداروں کی مدد لینے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے رمضان کے دوران احتیاطی تدابیر یقینی بنانے کے لیے علمائے کرام کی مدد لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
علاوہ ازیں وزیراعظم نے رمضان کے دوران ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر یقینی بنانے کے لیے علمائے کرام کی مدد لینے کا بھی فیصلہ کیا۔
ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیئے‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافے سے غریب عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی موجودہ صورتحال سے بری طرح متاثر ہیں۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے اشیائے صارف کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جس کا بوجھ کم آمدن والے طبقے پر پڑا۔
انہوں نے کہا کہ ’اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ روکنے کےلیے خفیہ اداروں کی خدمات حاصل کی جانی چاہیئے‘۔
ساتھ ہی انہوں نے متعلقہ محکموں کو ان مقامات پر کہ جہاں اسمگلنگ کا امکان زیادہ ہے وہاں ایماندار اور قابل افسران تعینات کرنے کی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ انہوں نے اسمگلنگ، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام میں آنے والی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر تعاون اور صورتحال کی روزانہ نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
اجلاس میں وزیراعظم کو رواں سال گندم کی فصل کے بارے میں بریف کیا گیا اور بتایا گیا کہ گزشتہ برس سرکاری محکموں نے 40 لاکھ ٹن گندم خریدی تھی اور اس برس 82 لاکھ ٹن خریدنے کا ہدف ہے۔
وزیراعظم نے عوام کو آٹے کی فراہمی اور گندم کی بروقت خریداری کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب حکومت نے ذخیرہ اندوزوں اور ضرورت کی 32 اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف سخت کارروائی کے لیے آرڈیننس بھی نافذ کردیا۔
آرڈیننس کے تحت ذخیرہ اندوزوں کو کم از کم 3 سال قید کی سزا اور ذخیرہ کردہ اشیا کی 50 فیصد رقم کا جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
اجلاس میں ٹڈی دل کے حملوں سے ہونے والے نقصان کے سبب پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے چین سے مشینوں اور کیڑے مار ادویات کی درآمد رک گئی ہے۔
وزیراعظم نے مشیر خزانہ کو ہدایت کی کہ ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے درکار فنڈز کا اجرا یقینی بنائیں۔