آل سعود نے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان کردیا
سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے ملک میں کوڑوں سے سزا کو ختم کرنے کاحکم سنا دیا۔
تسنیم خبررساں ادارے نے عالمی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سعودی عرب میں جرم پر کوڑے مارنے کی سزا کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس حکم کے بعد سعودی عرب میں کوڑوں کی جگہ قید اور جرمانے جیسی سزائیں دی جائیں گی۔
برطانوی خبرایجنسی رائٹرز نے سعودی اعلیٰ عدالت کی ایک دستاویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ فیصلہ رواں ماہ میں سعودی عرب میں جرم پر 'کوڑے' مارنے کی سزا کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں معمولی جرائم کی سزا کوڑے مار کی دی جاتی تھی۔
عدالتی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس سزاکا خاتمہ سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان کی ہدایت پر کیا گیا ہے جبکہ یہ اصلاح سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں کی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے ماضی کے ایسے متعدد کیسز سامنے رکھے تھے جن میں سعودی ججز نے ہراساں اور سرعام نشہ کرنے سمیت کئی جرائم میں مجرمان کو کوڑوں کی سزا سنائی۔
ریاست کے حمایت یافتہ انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی) کے سربراہ عواد العواد نے 'رائٹرز' کو بتایا کہ 'یہ اصلاح سعودی عرب کے انسانی حقوق کے ایجنڈا میں یادگار قدم ہے اور سلطنت میں حالیہ کی گئیں کئی اصلاحات میں سے ایک ہے۔'
انسانی حقوق واچ کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈم کوگلے کا کہنا تھا کہ 'یہ خوش آئند تبدیلی ہے لیکن اسے کئی سال پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔