کورونا وائرس؛ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ، عدالت عظمیٰ برہم
کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں چیف جسٹس گلزاراحمد نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہاکہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔
تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، کرونا وائرس ازخود نوٹس کیس میں چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، کوویڈ 19 کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات پھر سامنے آئے گی،کسی چیز میں شفافیت نہیں،سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی، چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ ٹیسٹنگ کٹس اور ای پی پیز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں، کوویڈ 19 کے اخراجات کا آڈٹ ہوگا تو اصل بات پھر سامنے آئے گی،کسی چیز میں شفافیت نہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ماسک اور گلوز کےلئے کتنے پیسے خرچ کرنے چاہیے؟،اگر تھوک میں خریدا جائے تو2 روپے کا ماسک ملتا ہے ،ان چیزوں پر اربوں روپے کیسے خرچ ہورہے ہیں؟پتہ نہیں یہ چیزیں کیسے خریدی جارہی ہیں؟
چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ سارے کام لگتا ہے کاغذوں میں ہی ہورہے ہیں،وفاق اور صوبائی حکومتوں کی رپورٹ میں کچھ بھی نہیں ہے،رپورٹ میں نہیں بتایا گیا کہ ادارے کیا کام کررہے ہیں، چیف جسٹس گلزاراحمد نے استفسار کیاکہ ماسک اور گلوز کےلئے کتنے پیسے چاہیے؟چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے استفسار کیا کہ کیا حاجی کیمپ قرنطینہ کا دورہ کیا گیا ہے؟۔
سیکریٹری صحت نے کہاکہ دورہ کیا تو حاجی کیمپ قرنطینہ غیر فعال تھا،ایک کمرے میں پارٹیشن لگا کر4 افراد کو رکھا گیا، ضلعی انتظامیہ نے گرلز ہاسٹل میں قرنطینہ سنٹر منتقل کیا، گرلز ہاسٹل میں 48 کمرے ہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بنیادی سہولیات کے بغیر پھر حاجی کیمپ میں قرنطینہ کیسے بنایا گیا؟حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز پر کتنا پیسہ خرچ ہوا؟ ۔
چیف جسٹس گلزار احمدنے استفسار کیا کہ این ڈی ایم اے کی نمائندگی کون کررہا ہے؟ ،این ڈی ایم اے کی رپورٹ آئی ہے لیکن اس میں کچھ واضح نہیں۔
ڈی سی اسلام آباد نے کہاکہ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز این ڈی ایم اے نے بنایا، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سندھ حکومت ایک درخواست پر دکان اور فیکٹری کھولنے کی اجازت دے رہی ہے، سندھ حکومت پالیسی بنانے کی بجائے فیکٹری کھولنے کی اجازت دی رہی ہے، چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ ملکی حالات بہت خراب ہو چکے ہیں،لوگوں کا کاروبار اورروزگار چلا گیا ہے،ہم ،سیکریٹری صحت اور انتظامیہ والے تنخواہ دار ہیں تو کام چل رہا ہے،کاروباری حضرات بے روزگار ہوچکے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ صوبائی حکومت کا وزیر کہتا ہے کہ وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ کرا دیں گے، پتہ ہے کہ صوبائی وزیر کیا کہہ رہے ہیں، یعنی صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آوٹ ہے،دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں،جسٹس سجاد علی شاہ نے کہاکہ حکومت نے مساجد کھول دی ہیں، کسی جگہ پر ریگولیشنز پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، حکومت نے مارکیٹیں بند کر کے مساجد کھول دیں، کیا مساجد سے کورونا وائرس نہیں پھیلے گا؟،اگر فاصلہ رکھنا ہے تو سب جگہ پر رکھنا ہوگا، پالیسی کدھر ہے؟،بازاروں میں لوگوں کو ڈنڈوں کے ساتھ ماراجا رہا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہاکہ پنجاب میں 37 صنعتیں کھولی گئی ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ 37صنعتیں کھول دیں باقی صنعتوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟۔
جسٹس قاضی امین نے کہاکہ پنجاب سے متعلق جو آپ کاغذ پڑھ رہے ہیں حقیقت اس سے مختلف ہے،میں خود پنجاب کا ہوں، مجھے علم ہے وہاں صورتحال کیسی ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ وفاقی معاملات کے حوالے سے شیڈول 4 کو دیکھ لیں،امپورٹ، ایکسپورٹ ،لمیٹڈ کمپنیز، ہائی ویزاور ٹیکس کے معاملات وفاقی ہیں،صوبائی حکومت وفاق کے معاملات پر اثر انداز نہیں ہو سکتی، چاروں صوبے اور آئی سی ٹی اپنی پالیسی سازی میں مکمل آزاد ہیں،کام کچھ نہیں کیا لیکن ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے استفسارکیاکہ وفاقی حکومت کے ریوینیو کا راستہ صوبائی حکومتیں کیسے بند کرسکتی ہیں؟ ،جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ صوبائی حکومت نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وفاق سے تصدیق ضروری ہے،ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہاکہ سندھ حکومت نے لاک ڈائون کا فیصلہ 2014 کے قانون کے تحت کیا،
چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ صوبائی حکومت کا اختیار اسی حد تک ہے جو آئین دیتا ہے، کاروبار ی سرگرمیوں پر وفاقی حکومت ٹیکس لیتی ہے،صوبے اس پر پابندی کیسے لگا سکتے ہیں؟چاروں صوبے اور آئی سی ٹی اپنی پالیسی سازی میں مکمل آزاد ہیں،جسٹس قاضی امین نے کہاکہ پنجاب میں کورونا وائرس کی مریضوں کے ساتھ اموات بھی بڑھ رہی ہیں،پنجاب میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ الارمنگ ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ صوبائی حکومتوں نے کاروباری مصروفیات روک دیں،صوبوں کو ایسے کاروبار روکنے کا کوئی اختیار نہیں جو مرکز کو ٹیکس دیتے ہیں، جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ ایسا کرنے کے لیے مرکز کی اجازت ضروری تھی، کیا پنجاب نے مرکز سے ایسی کوئی اجازت لی؟
اگر اجازت نہیں لی گئی تو صوبوں کے ایسے تمام اقدامات غیر آئینی ہیں،صوبائی حکومتیں صرف وہ کام رکوا سکتی ہیں جو ان کے دائرہ اختیار میں آتے ہوں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ٹیسٹنگ کٹس اور پی پی ایز پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔
جسٹس بندیال نے کہاکہ ایک ہفتہ دیتے ہیں، یکساں پالیسی مرتب کی جائے، اگر یکساں پالیسی نہ بنی تو عدالت عبوری حکم دے سکتی ہے،ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ وفاق میں بیٹھے لوگوں کی ذاتی عناد ہے، حکومت ہر کام منصوبہ بندی کے ساتھ کرتی ہے، اس معاملے کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آ رہی۔
جسٹس بندیال نے کہاکہ کورونا کی روک تھام سے متعلق اقدامات میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہو رہی ہے، ہمارا گزشتہ حکم شفافیت سے متعلق تھا اس کو نظر انداز کیا گیا،ایک اچھی اور وڑینری لیڈر شپ کا فقدان ہے، وفاق میں بیٹھے لوگوں کا رویہ متکبرانہ نظر آ رہا ہے،اس روئیے سے وفاق کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
جسٹس بندیال نے کہاکہ اس روئیے سے وفاق کو نقصان پہنچ رہا ہے،کیا وفاق میں بیٹھے لوگوں کو ایسی زبان استعمال کرنی چاہیے،وفاق اور صوبائی حکومتوں کی آپس میں ہم آہنگی نہیں ہے، اگر کوئی پالیسی ہے تو دکھائیں، بین الصوبائی سروس شروع ہونی چاہیے۔
جسٹس بندیال نے کہاکہ کراچی سے اسلام آباد لوگ 25 ہزار کرایہ دے کر پہنچ رہے ہیں،ہوائی سفر سے زیادہ مہنگا سفر پڑ رہا ہے،ہم سیلاب،زلزلے سے نکل آئے، اس مسئلے سے بھی نکل آئیں گے، انااور ضد سے حکومتی معاملات نہیں چلتے،ایک ہفتہ کافی ہے ورنہ عبوری حکم جاری کریں گے۔ چیف جسٹس گلزار احمدنے کہاکہ صوبائی حکومتیں پیسے مانگ رہی ہیں،اگر وفاق کے پاس فنڈز ہیں تو اسے دینے چاہئیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ حکومت ہر کام منصوبہ بندی کے ساتھ کرتی ہے،ایک ہفتہ دیتے ہیں، یکساں پالیسی مرتب کی جائے، اٹارنی جنرل نے کہاکہ سفید پوش افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو باہمی تعاون کی ضرورت ہے، شفافیت میں پہلی چیز یکسانیت ہے، ایگزیکٹو اس وقت مکمل مفلوج ہوچکا ہے،کون کیا زبان استعمال کر رہا ہے سب کچھ سامنے ہے۔






