بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تبلیغات جاری، نفرت انگیز واقعات میں اضافہ
مسلمانوں کی حمایت میں پوسٹ لائیک کرنے پر مسلمان نوجوانوں کے گھر پر بھی انتہا پسندوں نے حملہ کیا اور دکان کو آگ لگادی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر مسلمانوں کی حمایت میں پوسٹ لائیک کرنے پر مسلمان نوجوانوں کے گھر پر بھی انتہا پسندوں نے حملہ کیا اور دکان کو آگ لگادی۔
بھارتی ریاست ہریانہ کے گاؤں کیورک میں میں پیش آنے والے واقعے میں انتہا پسندوں نے رات گئے 55 سالہ حسن کے گھر پر پتھراؤ کیا اور اس کی ورک شاپ کو آگ لگا دی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انتہاپسندوں کے مسلمان کے گھر پر پتھراؤ اور ورک شاپ کو آگ لگانے کی وجہ صرف یہ تھی کہ حسن کے 19 سالہ بیٹے نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں کی حمایت میں ایک پوسٹ کو لائیک کیا تھا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق انتہا پسندوں نے انہیں داڑھی رکھنے اور نماز کی ٹوپیاں پہننے پر بدترین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔
یاد رہے کہ امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی 2020 ءکی رپورٹ میں بھارت کو پہلی بار اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے۔
امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت 2019 ءمیں مذہبی آزادی کے حوالے سے بدترین ملک رہا،یو ایس سی آئی آر ایف نے سال 2020 ءکی رپورٹ میں مودی سرکار کی طرف سے شہریت کے ترمیمی قانون کو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے بھارتی وزیراعظم کو ’ان فالو‘ کردیا
رپورٹ کے بعد امریکی صدارتی محل نے اپنی آفشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے بھارتی وزیراعظم اور بھارتی صدر کو ان فالو کردیا تھا۔






