زیارت آئمہ اطہار علیہم السلام کے تربیتی اور اخلاقی اثرات


زیارت آئمہ اطہار علیہم السلام کے تربیتی اور اخلاقی اثرات

اہل بیت اطہارعلیہم السلام کی تعلیمات میں ہزاروں ایسےمثبت نکات پوشیدہ ہیں جو ہماری زندگی کے ہرپہلو میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

تحریر: غلام مرتضی جعفری

تسنیم خبررساں ادارہ:  ان تعلیمات میں سے ایک آئمہ اطہار علیہم السلام اور مومنین کے قبور کی زیارت کرنا بھی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آئمہ علیہم السلام کی گوہربار ہدایات ہی آج کے معاشرے کے دردوں کے لئے بہترین دوا ہیں۔

زیارت قبورخاص طور پر زیارت پیغمبراکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہار علیہم السلام میں بہت سے اھم تربیتی اور اخلاقی اثرات اور راز پوشیدہ ہیں جیسے کہ خود رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: قبور کی زیارت کے لیے جاؤ بے شک وہ تمہارے لئے آخرت کی یاد تازہ کرتی ہے۔

مجلسی ، محمد باقر، بحار الانوار ج 79، ص 169

ان بزرگ ہستیوں کے مقبروں کی زیارت کے بہت سارے فائدے ہیں ان میں سے ایک دنیاوی لالچ اور حرص کا خاتمہ ہونا ہے اس طرح زائر اپنے کردار اور اعمال میں تبدیلی لاتا ہے۔ یہ تبدیلی  برے کاموں سے اجتناب اور نیک کاموں کی طرف توجہ کرنے کا وسیلہ فراھم کرتی ہے؛  لہذا آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارت قبور کے اس تربیتی اثر کی طرف توجہ دلائی ہے اور فرمایا ہے: زیارت قبور کے لیے جاؤ کہ اس میں عبرت اور نصیحتیں موجود ہیں۔

فیض کاشانی ، ملا محسن ، المحجۃ البیضاء ج9، ص 289

حضرت امام رضا علیہ السلام  فرماتے ہیں: جو بھی  شخص اپنےمومن بھائی کی قبر کی زیارت کرے گا اور اپنا ہاتھ قبر پر رکھ کر سورہ "انا انزلنا " سات بار قرائت کرے گا تو خداوند متعال اسکے گناھوں اور صاحب قبر کے گناھوں کو معاف کرتا ہے۔

عطاردی، عزیز اللہ ، مسند الامام الرضا، علیہ السلام ، ج 2، ص 254

پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی زیارت کے بارے میں اورجو اثرات ان زیارتوں کی وجہ سے انسان پر مرتب ہوتے ہیں اس کے بارے میں بہت سی روایات مشہور ہیں من جملہ وہ سوال جو حضرت امام حسین علیہ السلام  نے آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا کہ آپ کی زیارت کا اجر کتنا ہے، آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بھی میری یا تمہارے باپ یا تمہارے بھائی یا تمہاری زیارت کرے گا میرے اوپر ہے کہ قیامت کے دن اس کے دیدار کے لیے آؤں اور اس کی شفاعت کروں۔

صدوق محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ ج 2، ص 577

افضل ترین زیارتوں میں سے ایک زیارت

پیغمبراکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اطہارعلیہم السلام کی زیارات کی فضیلت، اہمیت اور اَجر و ثواب کے بارے میں بےشمار روایات موجود ہیں ہم یہاں امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی فضیلت اور اہمیت کے بارے میں چند احادیث قارئین کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

 حضرت عبدالعظیم حسنی نے امام جواد علیہ السلام سے عرض کیا مولا میں امام رضا علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام میں سے ایک کی زیارت کے لئے جانا چاہتا ہوں، لیکن میں یہ فیصلہ نہیں کرپا رہا ہوں کی پہلے سرزمین طوس میں امام رضاعلیہ السلام کی زیارت کے لئے جاؤں یا کربلاےمعلی میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کروں!  حضرت امام جواد علیہ السلام نےعبدالعظیم حسنی کو کچھ دیرٹھرجانے کا کہا اور گھرسے باہرتشریف لے گئے، کچھ دیر بعد گریہ فرماتے ہوئے گھرمیں داخل ہوئے اور فرمایا: امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جانے والے بہت ہیں لیکن طوس میں غریب الغربا کی زیارت پر جانے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

عیون اخبارالرضا، ج 2، ص 261؛ جامع احادیث الشیعة، ج 15، ص 496

امام جواد علیہ السلام نے عبدالعظیم حسنی سے فرمایا: الجنة واللَّهِ خدا کی قسم اسکے لئے جنت ہے جو میرے والد کے قبر کی زیارت کرے۔ وسایل الشیعه، ج 14، ص 556

نعمان ابن سعد حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا: ’’سَیُقْتَلُ رَجَلٌ مِنْ وُلْدی بِأَرْضِ خُرَاسَانَ بِالسَّمِّ ظُلْماً، إِسْمُهُ إِسْمی، وَ إسْمُ أَبیهِ إِسْمُ ابْنِ عِمْرَانَ مُوسَی عَلَیهِ السَّلامُ، أَلَا فَمَنْ زَارَهُ فی غُرْبَتِهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْها وَ مَا تَاَخَّرَ وَ لَوْ کَانَتْ مِثْلَ عَدَدِ النُّجُومِ وَ قَطْرِ الأَمْطَارِ وَ وَرَقِ الْأَشْجَارِ۔.

عنقریب میری اولاد میں سے ایک شخص سرزمینِ خراسان میں زہر سے مظلومانہ شہید کیا جائے گا، اُن کا نام میرے نام پر (علی) اور اُن کے والد کا نام حضرت موسیٰؑ ابن عمران علیہ السلام کے نام پر ’’موسیٰ‘‘ ہو گا۔ جان لو! جو کوئی عالَم غُربت میں اُن کی زیارت کرے گا، خداوند اُس کے گزشتہ اور آئندہ کے سارےگناہ بخش دے گا اگرچہ ستاروں کی تعداد، بارش کے قطروں کی مقدار اور درخت کے پتّوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ (بحار الانوار، علامہ محمد باقر مجلسیؒ، ج102، ص287)

ایک حدیث میں امام رضا علیہ السلام خود ارشاد فرماتے ہیں:  میری تربت، جنت کے باغوں میں سے ایک باغ اور فرشتوں کی رفت آمد کی جگہ ہوگی اور تا قیامت فرشتوں کا نزول ہوگا، میرے قبرکی زیارت کرنے والوں کے گناہ بخشے جائیں گے، اگر کوئی شخص میری زیارت کرے اور زیارت کے راستے میں آسمان سے ایک قطرہ اس کے چہرے پر پڑے تو اللہ تعالی اس شخص پر جہنم حرام کرے گا۔

امام رضا علیہ السلام  مزید فرماتے ہیں: جو بھی میری زیارت کرےگا گویا اس نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کی زیارت کی اور اس زائر کے لئے ہزار مقبول حج اور ہزار مقبول عمرے کا ثواب لکھا جائےگا۔ میں اور میرے آباء و اجداد روز قیامت اسکی شفاعت کریں گے۔

وشاء کہتے ہیں: علی بن موسیٰ الرضا علیه السلام نے اپنی قبر کی زیارت کی فضیلت کے سلسلے میں اس طرح ارشاد فرمایا کہ: عنقریب ہی میں ظلم وستم کے ساتھ زہر کے ذریعہ قتل کیا جاؤں گا، جو کوئی میری زیارت کو آئےگا اور میرے حق کو پہچانتا بھی ہوگا، اسکے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کو پروردگار بخش دےگا۔

عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 26۔  بحارالانوار، ج 101، ص 28.

ایک اور حدیث میں حضرت امام رضا علیه السلام فرماتے ہیں: جو کوئی اس دیار غربت میں میری زیارت کرے خدا اسے ہمارے ساتھ محشور فرمائے گا اور اعلیٰ درجات پر ہمارے ساتھ ہوگا۔  (من لایحضره الفقیه، ص 585)

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری