قرنطینہ کے نام پر لوگوں کو یرغمال بنایا جا رہا ہے، سپریم کورٹ
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے این ڈی ایم اے رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وسائل بہت غلط طریقے سے استعمال ہو رہے ہیں، آپ قرنطینہ کے نام پر لوگوں کو یرغمال بنا رہے ہیں۔
تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، کورونا ازخودنوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے کی ۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے سپریم کورٹ میں 123 صفحات پر مشتمل جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے ادارے کے لیے 25 ارب 30 کروڑ روپےمختص کیے، وزارت صحت کی جانب سے 50 ارب روپے مختص ہوئے جو تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
چیف جسٹس نے رپورٹ پر ریمارکس دیئے کہ ہمارا ملک کورونا ٹیسٹنگ کٹ بنانے کی صلاحیت ابھی تک حاصل کیوں نہیں کرسکا؟ اس پر نمائندہ این ڈی ایم اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کا جواب وزارت صحت زیادہ بہتر طریقے سے دے سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے اظہار عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ میں اخراجات کی کوئی واضح تفصیل موجود نہیں ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس ملک کے عوام صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے غلام نہیں ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ قرنطینہ کے نام پر لوگوں کو یرغمال بنا رہے ہیں، عوام کے حقوق کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، آپ کسی پر احسان نہیں کر رہے ہیں۔