فرشتے جس کے زائر ہیں ۔۔۔۔۔

رمضان المبارک کا رحمتوں و برکتوں بھرا بخششیں بانٹتا ہر ایک کی خالی جھولی بھرتا آخری عشرہ تھا ۔ میں آقا کریم ﷺ کے روضہء اقدس پر رحمتوں اور نور کی بارش میں انوار و تجلیات کے مزے لوٹ رہا تھا اور اپنے دوستوں اور ملک و قوم کیلئے جھولی پھیلائے ہوئے تھا۔

فرشتے جس کے زائر ہیں ۔۔۔۔۔

تحریر: چودھری عبدالغفورخان

تسنیم خبررساں ادارہ: ایک عجیب سی کیفیت تھی اور کیوں نہ ہو کہ میں جنت میں موجود تھا اور میں نے کہیں نہیں پڑھا کہ اللہ کریم کسی کو جنت میں داخل فرما کر نکالیں گے جو جنت میں داخل ہو گیا وہ اپنی مرادیں پا گیا۔ میں نے مولانا طارق جمیل صاحب کو فون کیاکہ میں مدینہ میں سرکار ﷺکے در پر حاضری دے رہا ہوں تو انہوں نے کہا "ہاں مدینہ جائے پناہ ہے "۔اور اس میں شک کی ذرا گنجائش نہیں ہے کیونکہ فرمانِ خداوندی بھی یہی ہے کہ جب تم اپنی جانوں پر ظلم کر لو تو میرے حبیب کی بارگاہ میں چلے جائو میں تمہیں معاف کر دوں گا اور میرے آقا کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جو مدینے میں داخل ہو گیا گویا وہ میری آغوش میں آگیا۔

میں ہمیشہ اپنی قسمت پر ناز کرتا ہوں کہ میرے آقا کریم ﷺ نے مجھے ہر سال اپنے کرم کے سائے میں بلایا اور جب میں نے آقا کریم ﷺ کا فرمان سنا کہ جس نے عید کی نماز مسجد نبوی میں ادا کی وہ یہ سمجھے کہ اس نے میرے کندھے سے کندھا ملا کر نماز پڑھی اس کے بعد مجھے 27بار عید الفطر مدینہ منورہ میں ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ ہے مگر افسوس کہ اشرف المخلوقات کی سرکشیاں اتنی بڑھیں کہ مظلوموں کے خونِ ناحق پر مالکِ کائنات ناراض ہو گئے اور اپنے دروازے بند کر لیے۔آقا کریم ﷺ کے بہت سے غلام جو رمضان المبارک میں حاضری کیلئے پیش ہوتے تھے ان کی تڑپ کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ہم مدینہ شریف کی گلیوں کو ترس رہے ہیں یارسول اللہﷺ آپکی اُمتّ کی اب بس ہو گئی ہے آقا جیؐ مدینہ شریف کے چھوٹے چھوٹے بچے اپنے دسترخوانوں پر جس محبت سے ہاتھ پکڑ کر آپکے مہمانوں کو افطاری کیلئے بٹھاتے تھے آپکے حرم پاک گنبدِ خضراکے سائے میں لگنے والے دسترخوان آپکے مدینہ کے خوبصورت مدنی لباس میں ملبوس مدنی آپکے مہمانوں کے منتظر ہیں۔

یا رسول اللہ ﷺ ہم آپکا صدقہ کھاتے ہیں اب ہم مدینہ شریف کے ٹکڑوں کو ترس گئے ہیں۔ آقا کریم ﷺ آپکے حرم کے دربان بہت یاد آرہے ہیں زم زم کے لائن میں رکھے بڑے کولرز سے آبِ زم زم پیتے آپکے پوری دنیا سے آئے غلام یاد آرہے ہیں مسجدِ نبوی ﷺ کی آذانیں اور میٹھی میٹھی آوازں کی قرأتیں کانوں میں گونج رہی ہیں۔

یا رسول اللہ ﷺ ختم ِ قرآن کی دعائیں ،قیام اللیل کا خوبصورت منظر اور نماز کے بعد اپنی بیوی اور بیٹیوں کو 21نمبر گیٹ سامنے گھڑی کے نیچے مل کر ہوٹل جانا۔ مدینے کی گلیوں میں پھرنا اور گھڑی کے پاس سوہنے شہر مدینہ کی لال رنگ کی دو منزلہ ٹورازم کی بسیں بہت یاد آرہی ہیں۔

یا رسول اللہ ﷺ آپکے شہر کی ہوا کو ترس گئے ہیں ہوٹل سے حرم جاتے ہوئے کھجوروں کی دوکانیں اور ان پر کام کرنیوالے دوست کہاں گئے۔ میرے آقا ﷺ وہ مدینہ شریف کے چھوٹے چھوٹے بلال حبشیؓ کی نسل جیسے بچے جو ویٹ مشینیں رکھ کر راستے میں بیٹھتے تھے۔ لال رومال باندھ کر موبائل کے چھوٹے چھوٹے کیبن والے اور ساتھ جگہ جگہ مدنی پولیس کی گاڑیاں اور آپکے مہمانوں کی خدمت کیلئے کھڑی ہوئی حرم کے ارد گرد ایمبولینسیں۔ حرم کے گرد بہت سے پاکستانی خوش قسمت بھائی مدینے میں رانا عظیم کا حلوہ اور صوفی انور کا لنگر بہت یا د آرہا ہے۔

یا رسول اللہ ﷺ میاں حنیف کا دسترخوان جو آپ ﷺ کو راضی کرنے کیلئے ہر وقت چلتا تھا آج وہ بھی منتظر ہیں۔یا رسول اللہ ﷺ سیدنا امیر حمزہ ؓسرکار اور اُحد شریف بہت یاد آرہے ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺریاض الجنہ سے نکل کر سنہری جالیوں کے سامنے با ادب سلام عرض کر کے آپ سے اجازت لے کر جنت البقیع میں جا کر سیدہ فاطمۃالزہرہ سلام اللہ علیہاکے سامنے با ادب کھڑے ہونا یاد آرہا ہے۔

اپنے والد بھائیوں اور بیٹے کے ساتھ حرم پاک میں صوفی انور صاحب کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے اور اہم دسترخوان پر بیٹھنا افطار سے پہلے کھڑے ہو کر آپکے سامنے درود و سلام پڑھنا اور پھر اللہ اکبر کی صدا پر روزہ افطار کرنا قِسم قِسم کی کھجوروں اور نعمتوں سے سجا آپکادسترخوان بہت یاد آرہا ہے۔

 یا رسول اللہ ﷺ افطاری اور نماز کے بعد مختلف گروپوں کی شکل میں مدنی قہوہ اور پودینے کے قہوے کے ساتھ کھجوریں کھانا ۔ یا رسول اللہ ﷺ ہم گنہگاروں کو معاف فرما دیں اور اپنا دَر ہمارے لیے کھول دیں ۔

میرے آقا جیؐ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے مسلمان بھائی بہنوں، بیٹیوں کا ساتھ نہیں دیا ۔ عالمِ اسلام اپنی نا اتفاقی میں ڈوب گیا اور اسلام کے دشمن ہمارے بچوں کا قتل ِعام کرتے رہے۔ میانمار میں کس بے دردی سے مسلمانوں کو کاٹا گیا کشمیر میں نیم مردہ ہماری بہنوں کو ہندو گھروں سے اٹھا کر اپنی بیرکوں میں ریپ کرتے رہے۔ مگر ہمارے حکمران کہتے رہے کہ "کیا میں جنگ کر لوں" ۔ شام میں ناحق خون کی ندیاں بہتی رہیں۔ یمن میں ناحق خون ریت کو سراب کرتا رہا ۔ فلسطین میں قتل عام ہے اور ہمارے حکمرانوں نے مظلوموں کی آواز سننے کی بجائے قاتلوں سے دوستی کر لی۔ ہم مجرم ہیں آقا کریم ﷺ عالم اسلام کے حکمرانوں میں اگر غیرت زندہ ہوتی تو آج اس طرح خونِ مسلم ارزاں نہ ہوتا بالآخر ہم : خدا ناراض کر بیٹھے یہ ہم کیا کر بیٹھے

میرے آقا کریم ﷺ آپ کا در جائے پناہ ہے وہ بھی بند ہو گیا میرے سرکار اللہ کے گھر کے دروازے بھی بند اور زم زم بھی بند ہو گیا میرے آقا جی ؐاب کرم فرما دیں یا رسول اللہﷺ ہمیں مانگنا نہیں آتا اور نہ ہمارا حق بنتا ہے آقا جیؐ ہم مجرم ہیں مگر آپ تو عطا کرنے والے ہیں بغیر مانگے عطا کرتے ہیں۔

آپکا دَر چھوڑ کر کہاں جائیں آقا جیؐ ہم جیسے بھی ہیں اللہ کی قسم ہم ہیں آپکے ہی ۔ یا رسول اللہ ﷺ آپ تو روزِ محشر بھی سب سے پہلے گنہگاروں کو سنبھالیں گے ہم پر نظر کرم فرمائیں ۔ آقا کریمؐ ہماری خطائوں کو نہیں اپنی عطائوں کو دیکھئے۔آقا جی ؐاپنی پیاری پیاری بیٹی سیّدہ فاطمۃالزہرہ سلام اللہ علیہا کا صدقہ اور ان کی پیاری بیٹی سیّدہ زینب سلام اللہ علیہا کا صدقہ اور ان کے اس خطبے کا صدقہ جو انہوں نے یزید کے دربار میں دیا تھا۔ ہمیں اپنے بچوں کی خیرات عطا کر دیں رمضان المبارک کا مہینہ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے میرے آقاؐکرم فرما دیں ۔ کائنات میں بسنے والے جانتے ہیں یار سول اللہ ﷺ:

فرشتے جس کے زائر ہیں مدینے میں وہ تُربت ہے

 

یہ وہ تُربت ہے جس کو عرشِ اعظم پر فضیلت ہے

 

میں کیا حق تعالی کوبھی مدینے سے محبت ہے

 

مدینے سے محبت اُن کی الفت کی علامت ہے

 

زمیں پر وہ محمدﷺ ہے وہ احمد ؐ آسمانوں میں

 

یہاں بھی ان کا چرچا ہے وہاں بھی انکی مدحت ہے

 

یہاں بھی ان کی چلتی ہے وہاں بھی ان کی چلتی ہے

 

مدینہ راجدھانی ہے دو عالم پر حکومت ہے

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری