ڈاکٹر رمضان عبداللہ، تحریک آزادی فلسطین کے سچے سپاہی


ڈاکٹر رمضان عبداللہ نے 1958 میں غزہ کے علاقے الشجاعیہ کے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں مکمل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لیئے مصر چلے گئے

تسنیم خبررساں ادارہ: جھاد اسلامی فلسطین کے سابقہ سیکریٹری جنرل، استعارہ شجاعت، تحریک آزادی فلسطین کے سچے سپاہی اور عظیم سپہ سالار ، ڈاکٹر فتحی شقاقی شہید کے بعد 23 سال تک صیہونی دشمن کے مقابل مدافعِ ارضِ فلسطین ڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح  دو سال سے زائد عرصے تک ایک جان لیوا بیماری سے لڑتے ہوئے بالآخر 7 جون 2020 کو بیروت کے ایک ہسپتال میں مسلم امہ کو داغِ مفارقت دے گئے

ڈاکٹر رمضان عبداللہ نے 1958 میں غزہ کے علاقے الشجاعیہ کے ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں مکمل کرنے کے بعد اعلی تعلیم کے لیئے مصر چلے گئے دوران تعلیم ان کی ملاقات ڈاکٹر فتحی شقاقی سے ہوئی  جو اس وقت  آزادی فلسطین کے لیئے طلوع اسلامی (Islamic Pioneer)   نامی ایک تحریک چلا رہے تھے ڈاکٹر رمضان عبداللہ بھی اس تحریک  کا حصہ بن گئے  

ڈاکٹر رمضان 1980 کے اواخر میں مصرسے واپس فلسطین آئے اور غزہ کی اسلامیہ یونیورسٹی میں بطور استادِ معاشیات اپنی خدمات کا آغاز کیا یہ وہ دور تھا جب فلسطین کے اکثر علاقوں پر غاصب صیہونی قبضہ کر چکے تھے اور مظلوم فلسطینی اپنی ہی سرزمین پہ مہاجرین جیسی زندگی گزار رہے تھے ڈاکٹر رمضان شلح نے جب اپنے حریت پسندانہ اور انقلابی لیکچرز کے ذریعے مختصر عرصے میں زبردست شہرت حاصل کی تو اسرائیلیوں کے کان کھڑے ہونا شروع ہوئے اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ صیہونی فورسز نے یونیورسٹی میں انہیں درس وتدریس سے منع کرتے ہوئے گھر میں نظر بند کر دیا اس نظر بندی کے دوران مختلف حیلے بہانوں سے انہیں شدید اذیتیں دی جاتی رہیں لیکن وہ ثابت قدم رہے۔

1986 میں ڈاکٹر رمضان شلح  اپنے ادھورے تعلیمی سلسلے کی تکمیل  کے لیے لندن چلے گئے جہاں انہوں نے چار سال میں ڈرہم یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی لیکن اس دوران وہ اپنے اصلی مشن کو کبھی نہیں بھولے ان چار پانچ سالوں میں انہوں نے آزادی فلسطین کے حوالے سے اپنی جدوجہد جاری رکھی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کویت میں شادی کی اور پھر 1992 کے اواخر میں وہ امریکہ گئے جہاں  1993 سے 1995 کے دوران  فلوریڈا کی ایک یونیورسٹی میں ماہرِ مشرق وسطی کے استاد کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔

1995 کے اوائل میں ڈاکٹر رمضان امریکہ سے واپس اپنے وطن پہنچے جہاں ڈاکٹر فتحی شقاقی ان کے منتظر تھے  دونوں کی سابقہ آشنائی اب ایک مضبوط دوستی میں بدل چکی تھی ڈاکٹر فتحی جو کہ انقلابِ اسلامی ایران اور خصوصا بانی انقلاب امام خمینیرح  کی شخصیت اور ان کے افکارسے بہت زیادہ متاثر تھے اس لیے انہوں نے جہاں ڈاکٹر رمضان کو دوسرے اسلامی مفکرین کے نظریات سے آشنائی دلائی وہیں امام خمینی کے افکار و نظریات سے بھی آگاہ کیا یوں ڈاکٹر رمضان شلح کی صورت میں آزادی فلسطین کو ایک اور بے باک، شجاع اور سچا لیڈر ملا۔

اکتوبر 1995 میں ڈاکٹر فتحی شقاقی کو فلسطینی مہاجرین کی مشکلات کے حل کے لیے معمر قذافی سے ملاقات کرنے لیبیا جانا پڑا  موساد ان کی تاک میں تھی یوں دشمن کو موقع ملا اور 26 اکتوبر 1995 کو مالٹا میں میٹنگ سے واپس ہوٹل جاتے ہوئے انہیں شہید کر دیا گیا تحریک آزادی فلسطین ایک عظیم لیڈر اور ڈاکٹر شلح ایک اچھے استاد اور سچے دوست سے محروم ہوگئے  حرکت جھاد اسلامی نے شہید فتحی کے بعدڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح کو سیکریٹری جنرل مقرر کیا ڈاکٹر شلح جو پہلے سے انتہائی متحرک تھے مزید فعال ہو گئے ۔

ڈرپوک صیہونی دشمن یہ سمجھ رہے تھے کہ ڈاکٹر فتحی شقاقی کے بعد تحریک آزادی فلسطین میں جان باقی نہیں رہے گی لیکن ان کے یہ اندازے غلط ثابت ہوئے ڈاکٹر شلح کی بھرپور اور شجاعانہ جدوجہد نےصیہونی رژیم کی نیندیں حرام کر دیں ڈاکٹر رمضان عبداللہ کے دور میں جھاد اسلامی فلسطین ایک مضبوط اور صیہونی دشمن کے لیے ایک خطرناک تنظیم کے طور پر سامنے آئی ۔

آزادی فلسطین کے لیے ڈاکٹر رمضان شلح کی تیزی سے بڑھتی جدوجہد نے دشمن کو خوفزدہ کر دیا تھا اسی لیے 2003 میں امریکہ نے انہیں دہشتگرد قرار دیتے ہوئے بلیک لسٹ کر دیا جب کہ 2007 میں ان کو زندہ گرفتار کرنے یا قتل کرنے پر پانچ لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا 2017 میں امریکی ادارے  FBI نے 26 دیگر شخصیات کے ساتھ انہیں Most Wanted مجرم قرار دیا دوسری طرف یورپی یونین، برطانیہ،کینیڈا،جرمنی،آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے انہیں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ۔

یوں تحریک آزادی فلسطین کا ایک روشن باب جس نے اپنی پوری زندگی قبلہ اول کی آزادی کے لیے صرف کر دی 2018 میں ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوئے دو سال سے زیادہ اس بیماری سے لڑتے ہوئے آخرکار 7 جون 2020 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے بے شک ڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح کی وفات امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے لیکن وہ دن دور نہیں جب شیخ احمد یاسین، ڈاکٹر رمضان عبداللہ ،ڈاکٹر فتحی شقاقی شہید، اور ان جیسے تحریک آزادی فلسطین کے تمام قائدین کی  محنت و  جدوجہد اور فلسطینی شہیدوں کا لہو رنگ لائے گا   آزادی فلسطین کا سورج طلوع ہوگا اور صیہونی دشمن ذلیل و رسوا ہو گا۔

ڈاکٹر رمضان عبداللہ شلح کی وفات پر حرکتِ جھاد اسلامی فلسطین کے سیکریٹری جنرل زیادنخالہ، حماس کے اسماعیل ھنیہ فلسطینی صدر محمود عباس ، ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی، وزیر خارجہ جواد ظریف، حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ اور خصوصا ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے انکی قربانیوں اور لازوال جدوجہد پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

آخر میں قارئینِ محترم سے ڈاکٹر رمضان عبداللہ مرحوم کے ایصال ثواب کے لیئے سورہ فاتحہ کی گذارش ہے۔ 

محمد ثقلین واحدی

Msaqlain1412@gmail.com