مسلمانوں پر مغربی تہذیب کے مثبت اور منفی اثرات


مسلمانوں پر مغربی تہذیب کے مثبت اور منفی اثرات

مغربی تہذیب، اس کے اثرات و احداف اور اس کے تناظر میں مسلمانوں کا موجودہ رویہ کیا ہے اور مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے.

مغربی تہذیب اپنے علم سے اور دیگر ارتقائی قوتوں سے بعض ایسی منزلوں تک جا پہنچی ہے جن منزلوں کی ہم سب کو بحیثیت سماجی انسان ضرورت ہے۔ اس کی مذہبی انسانوں کو بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی لا دین انسانوں کو. مغرب ﷲ کے نظام فطرت میں جتنی پیش رفت کر چکا ہے اور معاصر دنیا فطری اور انسانی دائرہ کار میں جہاں تک پہنچی ہوئی ہے، اس کا نہ تو انکار ممکن ہے اور نہ ہی اس سے اصولی اجتناب کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ اس وقت مغرب انسانی ضروریات سے لے کر انسانی آئیڈیلز کی صورتگری پر واحد حکمران ہے اور عملی صورت یہ ہے کہ آپ اپنے ذہن کو بنانا چاہیں گے تو اس کی تعمیر کا بھی سارا سامان وہیں سے لینا ہوگا. آپ اپنی دنیا کو بنانا چاہیں گے تو دنیا کو چلانے، قائم کرنے اور محفوظ رکھنے کا سامان بھی اور تصورات بھی وہیں سے لینا تو دور کی بات، دنیا اس کی عادت ڈال چکی ہے اب اس سے انکار نہیں یہ تو واقعہ کا انکار ہے. میں اگر حب اسلام میں چنگیز خان کو ٹی بی کا مریض کہہ بھی دوں تو یہ بات ممکن ہے کہ میرے کسی جذبہ کی تسکین ہو جائے لیکن حقیقت کے اعتبار سے یہ واقعہ کے خلاف ہے۔ 
انسانیت کی گاڑی جو منازل طے چکی ہے، قطع نظر اس کے کہ اسٹیرنگ پر کون بیٹھا ہوا ہے، ہم منزل کا انکار کر کے بس سے نکلنے کا شور نہیں مچا سکتے۔ یہ غیر انسانی بھی ہوگا اور غیر اسلامی بھی اب بات یہ ہے کہ مغرب میں ہمیں بلاشبہ بہت بڑی بڑی منزلوں تک پہنچا دیا ہے اور ان پر اپنا حق ملکیت جتائے بغیر مذہب نے یہ بہت بڑا کام کیا کہ ان کی بیشتر چیزیں ایسی ہیں جو patent چیزوں کی طرح نہیں اس پر انہوں نے اپنا کاپی رائٹ نہیں رکھا ہے اور انسانیت کے سپرد کر دیا ہے۔ وہ یہ سب ہمیں ماننا بھی پڑے گا اور اس سب پر ہمیں احسان مند بھی ہونا پڑے گا میرے خیال میں اس کے خلاف کوئی بھی رائے غیر دینی ہے۔  اب مسئلہ پیدا یہاں سے ہوتا ہے کہ مغرب کی بس نے ہمیں ابیٹ آباد پہنچا دیا اور اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر وہ بیٹھے ہیں۔ بس گویا کل انسانیت کو سفر کے لئے ورثے میں ملی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ڈرائیونگ سیٹ پر ہر زمانے میں کوئی ایک تہذیب ہوتی ہے لیکن میں بحثیت مسلمان اب ایبٹ آباد پہنچ کر ڈرائیور کی مرضی سے آزاد ہوں۔ ایبٹ آباد پہنچ  کر میں ہوٹل کا پتہ ڈرائیور سے نہیں پوچھوں گا۔ اب اپنے کھانے کا مینیو اس سے نہیں لوں گا. اس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب نے دنیا کو جو کچھ دیا ہے اس کو قبول کرتے وقت ایک بائنڈنگ رویہ ضرور اختیار کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہئے کہ ان میں سے کون سی چیزیں میرے دینی وجود سے متصادم ہیں؟ ان کو مجھے چھوڑنا ہوگا اور پھر مجھے انسانی تہذیب میں خدا کے انکار کی ضرورت کو مغرب میں ڈال دیا ہے مجھے مغرب سے جنگوں میں نہیں لڑنا ہے۔ مغرب اگر میرے لیے خطرہ ہے مغرب میرے لیے ﷲ کی بہت بڑی نعمت بھی ہے.  مغرب نے میرے لیے جو خطرہ پیدا کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس نے انسان کے اخلاقی سماجی معاشی علمی وجود کی تشکیل کے عمل میں خدا کو رکاوٹ بنا کر خارج کردیا ہے۔ اب مجھے اس پورے paradigm سے نکلنا ہے، اس سے لڑنے کی ضرورت پڑی تو لڑنا ہے اور اس paradigm کا احیاء  کرنا ہے کہ نہیں خدا کو مرکز میں رکھے بغیر خدا کو زندگی کی ساری حرکت کا مرکز اور منتہا بنائے بغیر انسان اپنی اخلاقی تہذیبی اور کسی طرح کے یونیورسل مطالبات پورے نہیں کر سکتا۔ ہم یہ جواب دینے میں ناکام ہیں یہ جواب فی الحال ہمارے حافظے ہی تک محدود ہے لیکن یہ جواب ایسا ہے کہ مغرب جس دلیل پر خدا کو باہر نکال رہا ہے اس دلیل میں اس سوال کی appreciation چھپی ہوئی ہے. اگر یہ سوال بندوق سے نہ کیا جائے بلکہ علمی انداز کے ساتھ ساتھ اخلاقی مظاہرے کے ساتھ کیا جائے۔  مغرب سے ہمیں کوئی اختلاف ہے جو کہ بہت اصولی اختلاف ہے، تو اس اصولی اختلاف کے خلاف ہمارا ہتھیار ان کی ایجاد کی ہوئی بندوق نہیں ہے، ہمارا ہتھیار ہمارا ایک نتیجہ خیز علم اور ہمارا وہ اخلاق جو قہماری معاشرت کو تعمیر کر کے دکھا چکا ہوں۔ اس میں ہم مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ہمیں اس ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے، فرد کی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک اپنے تصور علم پر علمی ترقی کرنا اور اپنے تصور خیر پر با اخلاق بننا ہی واحد حل ہے۔ یہ ہماری اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت بھی ہے اور اس سے ہمیں مغرب روک نہیں رہا۔ یہ کام ہم بغیر کسی خوف کے کر سکتے ہیں لیکن ہمیں ایک بری عادت پڑی ہوئی ہے کہ ہم علم کو نتیجہ خیز بنانے کی جدوجہد سے دو چار سو سال پہلے دستبردار ہو چکے ہیں ہم اخلاق کے معاشرتی ماڈلز کو دینی فریضہ بنائے رکھنے کے تصور سے عاری ہو چکے ہیں۔ اسی وجہ سے مغرب سے لڑائی کا جو اصل میدان ہے وہ ہم اپنی کمزوری کی وجہ سے وہاں سے فرار ہوکر اس میدان میں مغرب سے لڑ رہے  ہیں جہاں اس سے لڑنے کی اول تو ضرورت نہیں ہے اور جن لوگوں نے لڑائی چھیڑی ہوئی ہے وہ مغرب کے غلبے کو گویا اسٹیبلش کر رہے ہیں ان  کے غلبے کو الٹا ایک نظریاتی جہت دے رہے ہیں اور مغرب کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ اپنی بہترین انکاری صلاحیتوں کے ساتھ ہم پر حملہ آور ہوں اور ایسا ہونا کئی سالوں سے شروع ہوگیا ہے۔
 خدا مرکز علم خدا مرکز اخلاق چاہے یہ اپنی فارمز میں مغرب کی علمی اور اخلاقی تعلیم  کے نزدیک ہے یا دور ہے اس سے بالکل بےنیاز ہوکر ہمیں یہ دو چیزیں پیدا کرنی ہیں ورنہ مغرب کا ہر غلبہ اب ہمارے لئے افت کا سبب بنے گا راحت کا نہیں۔

(تحریر: ہمایوں کامران)

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی مقالات خبریں
اہم ترین مقالات خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری