بھارت سلامتی کونسل کا رکن منتخب، تحریک انصاف نے اپنی ہی حکومت پر سوال اٹھا دیا
بھارت کے سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست پر رکن منتخب ہونے پر انسانی حقوق کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی حکومت پر سوال اٹھا دیا۔
خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق بھارت کثیر تعداد میں ووٹ لے کر باآسانی سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست پر رکن منتخب ہو گیا. اقوام متحدہ کے 193 میں سے 184 ممالک نے بھارت کو ووٹ دیئے جس کے بعد بھارت یکم جنوری 2021 سے 31 دسمبر 2022 تک کےلئے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوگیا ہے لیکن اس انتخاب پر حکمران جماعت تحریک انصاف کی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنی حکومت پر سوال اٹھا دیا۔
ٹوئٹر پر شیریں مزاری نے لکھا کہ " ہوگیا ہے ، 193 میں سے 184 ووٹ حاصل کیے ، جنرل اسمبلی کے رکن آئرلینڈ، میکسیکو ، ناروے نے بھی اپنی ریجنل نشستیں جیتیں"۔
اپنی سلسلہ وار ٹوئیٹس میں انہوں نے مزید بتایا کہ "پاکستان کیلئے سوال ہے کہ ہم نے یہ کیوں یقینی بنایا کہ خطے سے کوئی اور نہ لڑے؟ افریقین نشست پر انتخاب تھا اور بہت پہلے بھارت کی نامزدگی پر ہم کیوں رضامند ہوئے؟ اس میں بھی سب سے پریشان کن چیز انڈیا کو ملنے والے ووٹ ہیں جو اس نے حاصل کیے"۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے کہ آسمان نہیں گرے گا، یہ حقیقت ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب بھارت نے غیرقانونی طور پر مقبوضہ کشمیر کا انضمام کیا اور روزانہ کی بنیاد پر چین اور نیپال کے ساتھ تنازعہ کے ساتھ ساتھ پاکستان پر حملے کررہا ہے، بھارت کو بلا مقابلہ چھوڑ دینا اسے قانونی جواز دینا ہے۔






