پاراچنار میں دہشتگردی کی مسلسل کاروائیاں قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ناصر شیرازی


پاراچنار میں دہشتگردی کی مسلسل کاروائیاں قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ناصر شیرازی

ملک کے سب سے پرامن محب وطن علاقے پاراچنارمیں دہشتگردی کی مسلسل کاروائیاں قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، ناصر شیرازی

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے شرپسندوں کے ہاتھوں پاراچنار کے محاصرے کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے سب سے پرامن محب وطن علاقے میں دہشتگردی کی مسلسل کاروائیاں قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی توجہ متعدد بار اس سنگین مسئلے کی جانب مبذول کرانے کے باوجود دانستہ چشم پوشی سے اہل علاقہ کے اضطراب میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ علاقے کے زمینی تنازعات کو منصفانہ طور پر حل کر کے علاقے میں امن و سکون کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
زمینی اور قبائلی تنازعات کا فائدہ وہ شر پسند عناصر اٹھا رہے ہیں جن کا ایجنڈے علاقے کے امن و سکون کو برباد کرنا ہے۔
پارہ چنار کی کشیدہ صورتحال کوئی آج کی بات نہیں بلکہ طویل عرصہ سے اس علاقے کو دانستہ طور پر میدان جنگ بناکر رکھا ہوا ہے۔علاقے میں محاصرہ اور خوف کی فضا دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے یہ کسی آزادر ریاست کا حصہ نہیں بلکہ متنازع سرزمین ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارا چنار کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کر کے انہیں بنیادی ضروریات زندگی سمیت تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔
علاقے میں امن کے حقیقی قیام کے لیے مثبت کوششوں کا فروغ اولین ضرورت ہے۔انہوں کے کہا علاقائی امن کو تباہ کرنے والے عناصر کے ساتھ سیکورٹی ادارے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں تاکہ کسی کو شرپسندی پھیلانے کا موقع نہ مل سکے۔

 

اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری