مکہ اور مدینہ میں پاکستان ہاؤس بنانےکا فیصلہ


وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا کہناہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں پاکستانی زائرین کی سہولت کے لئے پاکستان ہاؤس عمارتیں تعمیر کریں گے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کی جانب سے کہا گیا کہ یہ عمارتیں پاکستانی زائرین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں گی۔

 قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ حکومت مکہ اور مدینہ میں پاکستان ہاؤس عمارتیں تعمیر کرنے کے لیے سعودی عرب سے بطور تحفہ زمین حاصل کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ 8 سے 9 برسوں سے مکہ میں پاکستان ہاؤس کی سروس کی کمی تھی اور وہاں پاکستانی زائرین کو کوآرڈینیٹڈ سروسز فراہم کی جارہی تھی تاکہ وہ اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو بغیر کسی پریشانی کے انجام دے سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مکہ میں پاکستان ہاؤس کی علامتی موجودگی ضروری ہے، ساتھ ہی وہ بولے کہ مدینہ میں عدالتی احکامات پر پاکستان ہاؤس کی عمارت کو منہدم کردیا گیا تھا اور اس کی رقم کو روک لیا گیا تھا۔

نورالحق قادری کے مطابق پاکستان کی سب سے اولین ضرورت مکہ میں یہ سہولت حاصل کرنا تھی اور جب یہ فعال ہوگی تو حکومت مدینہ میں انہیں سروسز کے حصول کے لیے کوشش کرے گی۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ رواں سال کے لیے عازمین سے حج اخراجات کی مد میں تقریباً 50 ارب روپے وصول کیے گئے تھے، جسے مختلف بینکوں کے شرعی اکاؤنٹس میں جمع کروایا گیا تھا اور وہاں سے عازمین ویلفیئر فنڈ میں رقم رکھنے کے لیے تقریباً 49 کروڑ روپے منتقل کیے گئے تھے۔

  انہوں نے کہا کہ یہ فنڈ حجاج کو ادویات، ویکسی نیشن، حج سے متعلق تربیت جیسی زیادہ سے زیادہ سہولیات کے ساتھ ساتھ حج معاونین کے اخراجات کو برداشت کرنے کے لیے استعمال ہونا تھا