مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو قومی مالیاتی کمیشن سے ہٹا دیا گیا


ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی نیشنل فنانس کمیشن یا قومی مالیاتی کمیشن میں شمولیت اور سربراھی کو اپوزیشن کی جانب سے اسلام آباد ھائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا

تسنیم نیوز ایجنسی کو موصول اطلاع کے مطابق معاون خصوصی وزیراعظم پاکستان برائے خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی نیشنل فنانس کمیشن یا قومی مالیاتی کمیشن میں شمولیت اور سربراھی کو اپوزیشن کی جانب سے اسلام آباد ھائی کورٹ میں چیلنج کردیا گیا تھا اور آج بروز بدھ اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان کے مطابق ان کی تقرری کے نوٹیفیکیشن کو واپس لیتے ہوئے انہیں این ایف سی سے ہٹا دیا گیا ہے۔

تاہم اپوزیشن جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے محسن شاہنواز رانجھا کا موقف ہے کہ ان کی جماعت کا اعتراض اس بات پر  بھی تھا کہ این ایف سی کا قیام ان کی جماعت سے مشاورت کے بغیر عمل میں لایا گیا ہے۔

اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ مجھے قومی مالیاتی کمیشن کے پچھلے نوٹیفیکیشن سے بھی اختلاف تھا جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جناب جسٹس میاں گل اورنگزیب نے ان کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر اٹارنی جنرل آپ کی طرح بات نہیں کرتا۔

ایم این اے محسن شاہنواز رانجھا کا کہنا ہے کہ یہ ان کی جماعت کی فتح ہے کہ حکومت کو آئین کی حدود کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہی کام کرنا ہوگا۔

واضح رہے کے پاکستان مسلم لیگ (ن) نے یہ موقف اپناتے ہوئے مشیر خزانہ کی جانب سے این ایف سی کی سربراھی کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا تھا کہ آئینی طور پر وزیر خزانہ ہی این ایف سی کی سربراھی کر سکتے ہیں، مشیر خزانہ نہیں۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل فنانس کمیشن کی تنظیم نو کے معاملہ پر صدر پاکستان ,حکومت پاکستان, وزارت خزانہ، وزارت قانون اور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ معاون خصوصی وزیراعظم پاکستان کو نوٹس جاری کئے تھے۔  

یہ این ایف سی ایوارڈ ہے کیا؟

 پاکستانی حکومت مختلف ٹیکسز اور محصولات کی مد میں جو آمدنی اکٹھی کرتی ہے اس کی مرکز اور صوبوں میں تقسیم کے لئے جو کمیشن بنایا جاتا ہے اسے قومی مالیاتی کمیشن یا نیشنل فنانس کمیشن کہتے ہیں جو حرف عام میں این ایف سی ایوارڈ کے نام سے جانا جاتا ہے