پنجاب؛ عید الاضحیٰ پر مساجد اور امام بارگاہوں کیلئے حفاظتی پلان جاری، سیکیورٹی ہائی الرٹ


پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں عید الاضحیٰ پر مساجد اور امام بارگاہوں کیلئے حفاظتی پلان طے پاگیا؛ سیکیورٹی ہائی الرٹ، ماسک اور دستانوں کے بغیر داخلے پر پابندی ہوگی

تسنیم خبر رساں ادارے کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں عیدالاضحی کے موقع پر مساجد اور امام بارگاہوں کیلئے حفاظتی پلان طے پاگیا ہے اور اس بار کرونا وائرس کے پھیلاو سے حفاظت کو بھی سیکیورٹی پلان کا حصہ بنایا گیا ہے۔ مساجد اور امام بارگاہوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے گا اور کھلے مقامات پر نماز ادا کی جائے گی

حفاظتی منصوبے کے مطابق مساجد اور امام بارگاہوں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہوگی،  ماسک اور دستانوں کے بغیر داخلے پر پابندی، پچاس سال سے زائد اور 10 سال سے کم عمر بچوں کے داخلے پر پابندی، بیمار، نزلہ زکام اور کھانسی میں مبتلا افراد کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ 20 نکاتی فارمولہ اور نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر میں عیدالاضحی پر مساجد اور امام بارگاہوں کی سیکیورٹی انتہائی سخت رہے گی ۔ لاہور میں 480 مساجد اور امام بارگاہوں کو اے پلس اور 901 مساجد اور اما م بارگاہوں کو اے کیٹگری میں شامل کر لیا گیا ہے ۔ مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھی جائے گی جس کے لئے سیکیورٹی پر کمانڈوز ، محافظ فورس تعینات ہو گی جبکہ ڈولفن فورس مساجد اور امام بارگاہوں کے ارد گرد پٹرولنگ کرے گی ۔

ایس پیز اور ڈی ایس پیز سمیت ایس ایچ اوز سیکیورٹی کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ مساجد اور امام بارگاہوں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھا جائے گا اور کھلے مقامات پر نماز ادا کی جائے گی ۔ بیمار، نزلہ زکام اور کھانسی میں مبتلا شخص کے داخلے پر پابندی ہو گی جبکہ 50 سال سے زائد شخص اور 10 سال سے کم عمر کے بچوں کے داخلے پر مساجد اور امام بارگاہوں میں داخلے پر پابندی ہو گی ۔ محکمہ داخلہ کہ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مساجد اور امام بارگاہوں میں عیدالفطر کی طرح حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا، جس میں نماز عیدالاضحی کا دورانیہ 30 منٹ کا ہو گا جس میں خطبہ اور دُعا بھی شامل ہو گی ۔ نماز سے پہلے اور بعد میں لوگ اکٹھے نہیں ہوں گے ۔ عید کی نماز قالینوں اور دریوں کے بغیر صاف فرش پر ادا کی جائے گی ۔ نماز سے قبل مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو کلورین ملے پانی سے دھویا جائے گا ۔ دریاں اور چٹایاں اس صورت میں بچھائی جائیں گی جن مساجد میں پختہ فرش موجود نہ ہو اور جن مساجد میں صحن ہو وہاں ہال کی بجائے صحن میں نماز ادا کی جائے گی۔ صف بندی کا انتظام اس طرح کیا جائے گا کہ نمازیوں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ رہے ۔

مساجد انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ مساجد کے داخلی دروازے پر سینیٹائزر موجود ہو اور تمام نمازی ماسک اور دستانے پہن کر مساجد میں آئیں گے اور نمازی کسی سے ہاتھ نہیں ملائیں گے اور نہ ہی بغل گیر ہونے کی اجازت ہو گی جبکہ مساجد کے اسپیکروں  کا استعمال پنجاب گورنمنٹ کے جاری کردہ سائونڈ سسٹم ایکٹ 2015 کے مطابق کیا جائے گا جبکہ حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد میں ناکامی پر مساجد اور امام بارگاہوں کی انتظامیہ کے خلاف دفعہ 144 کے تحت زیر دفعہ 188 کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے ۔

اس سیکیورٹی پلان پر عمل درآمد کیلئے مساجد اور امام بارگاہوں کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کر دیا گیا ہے جبکہ کورونا سے بچائو کے لئے حکومتی ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا جس کے لئے شہر کی مساجد اور امام بارگاہوں پر کمانڈوز تعینات ہوں گے جبکہ محافظ فورس اور تھانوں کی نفری بھی تعینات کی جائے گی ۔ ایس پیز اور ڈی ایس پیز سیکیورٹی کے ذمہ دار ہوں گے جس کے لئے وہ خود اور ڈی آئی جی آپریشن سمیت ایس ایس پی آپریشن اہم مساجد اور امام بارگاہوں کے دورے کریں گے جس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ۔