امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری، فوجی دستے واپس بھیجنے کا مطالبہ
ریاست اوریگان کے شہر پورٹ لینڈ اور ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں ایک بار پھر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی: امریکا میں سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ کے پولیس اہل کار کے ہاتھوں بے رحمانہ قتل کے بعد نسلی امتیاز کے خلاف شروع ہونے والا احتجاجی سلسلہ تھم نہ سکا، ریاست اوریگان کے شہر پورٹ لینڈ اور ریاست واشنگٹن کے شہر سیاٹل میں ایک بار پھر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ مظاہرین نے پولیس کی فنڈنگ ختم کرنے اور وفاقی فوجی دستے واپس بھیجنے کا مطالبہ کر دیا ہے، ڈیموکریٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ فوجی دستے طاقت کا استعمال کر کے شہریوں کو مشتعل کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ احتجاجی مظاہروں کو جرم قرار دے چکے ہیں، ٹرمپ نے پُر تشدد احتجاج کو روکنے کے لیے کئی شہروں میں وفاقی فوجی دستے بھیجے تھے، جس کے بعد ان کو ملک بھر سے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ ادھر ڈیموکریٹ گورنرز اور میئرز نے بھی فوجی دستے واپس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
دوسری طرف شہر سیاٹل میں بڑے احتجاجی مظاہروں کے بعد شہری انتظامیہ نے مظاہروں کو فساد قرار دے دیا ہے، مظاہرین نے احتجاج کے لیے ایک بڑا علاقہ ایک ہفتے سے گھیرا ہوا ہے، جسے خالی کرانے کے لیے پولیس نے مظاہرین پر فلیش بینگ گرنیڈ اور مرچوں کے اسپرے کا استعمال کیا، فلیش بینگ گرنیڈ سے تیز آواز اور روشنی پیدا ہوتی ہے جسے مظاہرین کو منتشر کرنے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور کوئی شدید زخم نہیں لگتے۔
سیاٹل پولیس نے کہا ہے کہ 11 مظاہرین کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے، جن سے ہفتے کو پولیس اسٹیشن کی دیواروں کو ممکنہ دھماکا خیز مواد سے نقصان پہنچائے جانے کے سلسلے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔






