اقوام متحدہ؛ چین کا یمن میں متحارب گروہوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ


اقوام متحدہ؛ چین کا یمن میں متحارب گروہوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ

چین نے یمن میں تمام متحارب گروہوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری جنگ بندی پر عمل درآمد کریں

تسنیم نیوز ایجنسی: چین نے یمن میں تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی پر عملدرآمد کریں اور مسائل بات چیت اور سیاسی عمل کے ذریعے حل کریں۔

اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ژانگ جن نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی برادری یمن کے بحران کے سیاسی حل کے لئے اپنی کوششیں تیز کرے۔

انہوں نے کہا کہ چین تین مختلف پہلوئوں سے یمن کے بحران کے ایسے حل کی تلاش کا حامی ہے جس میں ملک میں جنگ بندی' اقتصادی بحالی اور انسانی امداد کی فراہمی کے اقدامات اور جامع سیاسی مذاکرات شامل ہو۔
یمن کے خلاف جنگ اور جارحیت کا سلسلہ ایسے وقت میں بھی جاری ہے جب  سویڈن میں صنعاء اور ریاض کے وفد کے مابین 18 دسمبر 2018 کو الحدیدہ میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا چکا تھا تاہم سعودی جنگی اتحاد نے اپنی ہی اعلان کردہ جنگ بندی کی ایک دن بھی پابندی نہیں کی اور جارح سعودی اتحاد جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اب تک سینکڑوں بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔
اقوام متحدہ نے بھی یمن میں مظالم کے حوالے سے آنکھ بند کی ہوئی ہے اور یمن میں بچوں کی ہلاکت اور خطرات سے عدم توجہی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ یمنی رہنما «جیهان حکیم»،  کا کچھ روز پہلے کہنا تھا کہ جو ہاتھ یمن میں مدد کی بات کرتا ہے وہی ہے جو یمن میں بچوں کو مارنے والوں کی مدد کرتا ہے۔
واضح رہے کہ یمن پانچ سال سے زائد عرصے سے جارح سعودی اتحاد کی جانب سے مسلط کئے جانی والی جنگ کا شکار ہے۔ سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی ممالک، امریکا، برطانیہ اور دیگر ملکوں کی حمایت کے زیر سایہ مارچ 2015 سے یمن پر وحشیانہ حملے کر رہے ہیں اس عرصے میں ہزاروں یمنی شہری شہید و زخمی ہوچکے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی بے سر و سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری