اسرائیلی دارالخلافہ تل ابیب وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف مظاہروں سے لرز گیا
صیہونی ریاست حزب الله کے ہاتھوں مستقل شکست اور وزیراعظم نیتن یاہو کی مالی بدعنوانیوں پر شدید سیاسی افراتفری کا شکار ہے
تسنیم خبر رساں ادارے کے ذرائع کے مطابق جہاں صیہونی غاصب ریاست، لبنان کی اسلامی مقاومتی تنظیم حزب الله کے ہاتھوں پے در پے شکست کے بعد شدید نفسیاتی تنزلی، خوف اور سیاسی تناو کا شکار ہے وہاں وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کی مالی بدعنوانیوں نے بھی اسرائیلی عوام کو غم و غصہ سے بھر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق منگل کی شب ہزاروں مظاہرین تل ابیب کی سڑکوں پر نکل آئے اور صیہونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور حکومت کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ مظاہرین نے تل ابیب کی ایالون ھائی وے بھی بلاک کردی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
جس پر پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچ گئی اور ھائی وے کو کھلوانے کی کوشش کی جو مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کا باعث بنی۔ پولیس نے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو سرکوب کرنے کی کوشش کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
نیتن یاہو کے حامیوں کی ایک تنظیم " لا فامیلیا" نے مظاہرین پر حملے بھی کئے جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہوگئے۔ مظاہرین نعرے لگا رہے تھے کہ ہم نیتن یاہو کے استعفیٰ دینے تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔
تل ابیب کی سڑکوں پر ان مظاہروں کے بعد اسرائیلی سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیلی کی جانب جارہا ہے اور وہاں سیاسی افراتفری عروج پر ہے۔ ا
اسرائیلی سیاستدان اور صحافی یائیر لاپڈ نے اپنی ایک ٹوئٹر پوسٹ میں لکھا کہ کل تل ابیب کی سڑکوں پر جو خون بہایا گیا وہ نیتن یاہو اور ان کے گماشتوں کے ہاتھوں پر تلاش کیا جائے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو کو کرپشن اور مالی بد عنوانیوں کے الزامات کا سامنا ہے اور مختلف معاملات میں کرپشن کے چار بڑے مقدمات جن کی مجموعی مالیت اربوں ڈالر بتائی جاتی ہے، نیز اختیارات کے ناجائز استعمال اور دھوکہ دھی کے الزامات میں ان پر صیہونی حکومت کی ایک کورٹ نے فرد جرم بھی عائد کردی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کے باوجود تل ابیب میں ان کی رہائش گاہ کے باہر عوام کا احتجاج اب روز کا معمول بن گیا ہے جہاں پولیس مظاہرین کے خلاف ہر گزرتے دن کے ساتھ سختی سے نمٹ رہی ہے۔






