سینئر صحافیوں کی پنجاب تحفظ بنیاد اسلام بل پر شدید تنقید


یہ ایک متنازعہ اقدام ہے، بل مندرجات بہت ہی خطرنا ک ہیں: عامر متین، پرویز الہیٰ وزیراعظم کے خلاف مذہبی کارڈ استعمال کررہے ہیں، رؤف کلاسرا

تسنیم نیوز ایجنسی: سینئر صحافیوں نے پنجاب تحفظ بنیاد اسلام بل پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے متنازعہ اقدام قرار دے دیا ہے۔  سینئر صحافی عامر متین کا کہنا ہے کہ پنجا ب حکومت کا پیش کیا گیا تحفظ بنیاد اسلام نامی جو بل ہے یہ ایک متنازعہ اقدام ہے، مسلکوں اور فرقوں کی لڑائی میں مسلمان دنیا تباہ و برباد ہوگئی ہے۔

عامر متین نے کہا ہمارے ملک میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے یہاں یہ نعرہ لگنا بند ہونا چاہیے، الحمداللہ 98 فیصد پاکستانی مسلمان ہیں، ہمارا ملک بہت حد تک فرقوں کی آگ سے بچا ہوا ہے مگر یہ جو بل لایا گیا ہے وہ بھی بغیر کسی مشاورت کے لایا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس کے پیچھے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہیٰ صاحب کا ہاتھ ہے، وہ اسمبلی میں اپنی 3، 4 سیٹوں کے بعد ایسے اقدامات سے اپنی شہرت بنانا چاہتے ہیں، مذہبی مسائل بہت حساس اور سنجیدہ ہوتے ہیں، ملکی سطح پر مشاورت کے بغیر ایسا کوئی شوشہ نہیں چھوڑنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فرقوں کی لڑائی میں ریاست کا کردار محدود ہوتا ہے، تمام فرقوں کی مشاورت کے بعد 73 کے آئین میں مذہبی اتحاد کو قائم کرکے سب کا مسلمہ ایک نقطہ شامل کیا گیا تھا، اب اگر کوئی اور قانون یا بل کسی کی خواہش ہے تو وہ متعلقہ پلیٹ فارمز پر یہ بحث چھیڑے ، ہمارے یہاں فرقوں کی لڑائی کم ہے اور تمام فرقے لڑائی کے بجائے یکسانیت کی بات کرتے نظر آتے ہیں، جب تفرقہ بازی کم ہورہی ہے تو یہ ایک شوشہ چھوڑ دیا گیا، بل مندرجات بہت ہی خطرنا ک ہیں۔

سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا تھا کہ ایک دم سے پرویز الہیٰ کو یہ مذہب کارڈ یاد آگیا، ویسے وہ ایک لبرل سیاست دان کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، پورا خاندان کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہے، اربوں کی کرپشن کی داستانیں نیب نے کھول کر سامنے رکھ دی ہیں وہ مذہب سے متصادم نہیں ہیں، کرپشن کرتے ہوئے مذہب یاد نہیں آتا بلکہ وہاں ان کے پاس جواز ہیں حالانکہ کٹاس راج مندر کے معاملے پر انہوں نے اقلیت کا ساتھ دیا تھا، اچانک جب مونس الہیٰ کو وزیر بنانے کے ان کے مطالبے کو عمران خان نہیں مان رہے تو انہیں اسلام کا تحفظ یاد آجاتا ہے۔