امریکی معیشت تاریخی گراوٹ کا شکار، سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں معیشت کو بڑا دھچکا
کورونا وائرس کی وبا کے باعث امریکا کو بدترین معاشی کساد بازاری کا سامنا ہے
تسنیم نیوز ایجنسی: امریکی معیشت رو بہ زوال ہے اور اس کو سال 2020 کی دوسری سہ ماہی میں بدترین دھچکا لگا ہے۔ ایک بین الاقوامی تجارتی ویب سائٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں امریکی معیشت 32 اعشاریہ 9 فیصد کے سالانہ اندازوں کے حساب سے سکڑی ہے۔
ویب سائٹ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے باعث امریکا کو معاشی کساد بازاری کا سامنا ہے، وبا نے کاروباری مصروفیات کو بند کردیا اور شہریوں کو گھر بٹھا دیا ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی معیشت اس قدر گراوٹ کا شکار ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکی معیشت میں بہتری اسی صورت میں ممکن ہے جب کورونا کی وبا پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جائے اور وائرس کی نئی لہر کو روکنے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔
امریکہ میں ابھی بھی کاروبار کی صورتحال یہ ہے کہ کئی ریاستیں وبا کے مسلسل پھیلاؤ کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں بحال نہیں کرسکیں، امریکی وفاقی حکام کو خدشہ ہے کہ دو ہزار بیس میں امریکی معیشت 6 چھ اعشاریہ 9 فیصد تک گر سکتی ہے جو کہ تاریخی اعتبار سے امریکی معیشت کے لیے بڑا زور دار دھچکا ہوگا۔