سعودی اتحادی جنگی طیاروں کے یمن پر مسلسل حملے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں 74 مرتبہ اور جولائی کے مہینے میں 2895 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی اور فضائی حملے
تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یمن میں حسب سابق سعودی اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود بین الاقوامی قوانین اور جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے ماضی کی روایات برقرار رکھتے ہوئے اپنے جنگ بندی کے اعلانات کی خلاف ورزی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور سعودی اتحادی جنگی طیاروں نے کل ہفتے کے روز یمن کے مختلف علاقوں منجملہ صوبے مارب کے علاقوں مجزر اور مدغل میں 7 مرتبہ، صعدہ کے شمالی علاقے الوجرہ میں 3مرتبہ، صوبہ صنعا کے علاقے نقیل الفردہ کے علاقے میں 3 مرتبہ اور صوبہ الجوف کے علاقوں المھاشمہ اور الخنجارمیں 4 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وحشیانہ حملے کئے۔
یمن کی عوامی اور انقلابی تحریک انصارالله کے ذرائع کے مطابق سعودی جارح اتحاد نے گذشتہ ماہ جولائی میں صرف ایک ماہ کے دوران 2895 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور یمنی فضائی حدود میں گھس کر حملے کئے اور گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 74 بار جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جا چکی ہے۔
ٹوئیٹر پر ایک بیان میں جنرل یحیی سریع نے کہا کہ کرونا کے پیش نظر اقوام متحدہ کی اپیل پر ہونے والی جنگ بندی اعلان کے سوا کچھ ثابت نہ ہوسکی۔ سعودی عرب جنگ بندی کے اعلان کو بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے لئے استعمال کررہا تھا۔ حالیہ حملوں اور بمباری کے بعد سعودی عرب کے اصل چہرے سے نقاب اٹھ گیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ سعودی عرب نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے دعوی کیا تھا کہ کورونا کے خلاف مہم میں مدد کی غرض سے یمن کے خلاف ہر قسم کے زمینی اور فضائی حملے بند کر دئے گئے ہیں اور اس کا خیر مقدم کیے جانے کی صورت میں جنگ بندی میں مزید توسیع بھی کی جاسکتی ہے تاہم سعودی جنگی اتحاد نے اپنی ہی اعلان کردہ جنگ بندی کے آغاز کے تھوڑی ہی دیر بعد یمن پر جارحیت دو بارہ شروع کردی تھی ۔
یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ، متحدہ عرب امارت اور بعض دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر پچھلے پانچ برس سے مغربی ایشیا کے غریب اور عرب اسلامی ملک یمن کو زمینی، فضائی اور سمندری جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ اس کا محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔
مارچ دوہزار پندرہ سے جاری سعودی جارحیت اور جنگ کے نتیجے میں دسیوں ہزار بے گناہ یمنی شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ لاکھوں لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
سعودی عرب اور اس کے اتحادی اس جنگ کے ذریعے استعفی دے کر سعودی دارالحکومت ریاض بھاگ جانے والے سابق کرپٹ یمنی صدر منصور ہادی کی کٹھ پتلی حکومت کو دوبارہ اقتدار میں لانا چاہتے تھے۔






