سابق وزیر اعظم پر فرد جرم عائد کر دی گئی


سابق وزیر اعظم پر فرد جرم عائد کر دی گئی

احتساب عدالت نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) میں دو اہم عہدوں پر مبینہ غیر قانونی تقرریوں کے کیس میں سابق وزیر اعظم پر فرد جرم عائد کردی۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، احتساب عدالت نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) میں دو اہم عہدوں پر مبینہ غیر قانونی تقرریوں کے کیس میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق پیٹرولیم سیکریٹری ارشاد مرزا اور دو دیگر افراد پر فرد جرم عائد کردی۔

قومی احتساب بیورو (نیب) نے مارچ میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے شاہد خاقان عباسی اور ارشاد مرزا کے خلاف سرکاری ادارے میں چیف ایگزیکٹو افسران کی تقرری کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شیخ عمران الحق کو پی ایس او کا منیجنگ ڈائریکٹر اور یعقوب ستار کو ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (فنانس) کے تقرری میں اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزام میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

احتساب عدالت II کی جج عالیہ لطیف انڑ نے شاہد خاقان عباسی، ارشاد مرزا اور پی ایس او کے دونوں سابقہ سینئر عہدیداروں کے خلاف لگائے گئے الزامات کو پڑھ کر سنایا تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کردیا اور الزامات کا مقابلہ کرنے کا انتخاب کیا۔

جج نے استغاثہ کے گواہوں کو 27 اگست کو اپنی شہادتیں ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کیا جبکہ سابق وزیر اعظم اور دیگر ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ سے عبوری قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرلی ہے۔

احتساب ادارے نے اس ریفرنس میں الزام لگایا ہے کہ اس وقت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وزیر شاہد خاقان عباسی اور اس وقت کے پیٹرولیم سیکریٹری نے پی ایس او کے ایم ڈی اور ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر (فنانس) کی تقرری کرتے ہوئے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا تھا۔

کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے جولائی 2018 میں ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے نیب کو پی ایس او کے دونوں عہدیداروں کی تقرری کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

بعدازاں ایک انکوائری رپورٹ عدالت عظمی میں پیش کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ شیخ عمران الحق کی تقرری غیر قانونی تھی اور شفاف انداز میں نہیں کی گئی تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ شیخ عمران الحق کے سابقہ آجر (اینگرو کارپوریشن) کے ساتھ ایل این جی معاہدے کی وجہ سے پی ایس او سے مفادات کا تصادم تھا۔

نیب نے شیخ عمران الحق پر پی ایس او میں ملازمت کے ایک ماہ کے اندر ہی یعقوب ستار کو ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی دے کر اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

اس میں دعوی کیا گیا ہے کہ ملزمان نے قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9 (اے)، (4)، (6) اور (12) کے تحت قابل سزا جرم کیا ہے اور قومی خزانے کو 13 کروڑ 89 لاکھ 60 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ سماعت کے دوران شاہد خاقان عباسی اور سابق پیٹرولیم سیکریٹری نے اپنے وکیل خواجہ نوید احمد کے ذریعہ ٹرائل کورٹ میں پیشی سے استثنیٰ کی درخواست دی تھی جس پر 27 اگست کو سماعت کی جاسکتی ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری