کچی دیواروں کو پانی کی لہر کاٹ گئی، پہلی بارش ہی نے برسات کی ڈھایا ہے مجھے


پہلے کراچی کے لوگ بارش کے دوران اگر گھر سے باہر نہیں تو گھر کے اندر ہی اپنی بالکونی یا کھڑکی سے برسات کا نظارہ کرکے لطف اندوز ہولیتے تھے مگر اب تو صورت حال یہ ہے کہ بقول شاعر: اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں، بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی

تحریر: عباس رضائی

"پہلی بارش ہی نے برسات کی ڈھایا ہے مجھے" اگر پاکستان کی معاشی شہ رگ اور سب سے بڑے شہر کراچی کو حالیہ بارشوں میں گویائی مل جاتی تو یہ شہر شاید اسی شعر کو گنگناتا۔

بارش خدا کی رحمت ہے اور رحمت ہی رہے گی، مگر شہر کراچی میں نااھل انتظامیہ خدا کی اس رحمت کو شہریوں کیلئے ہمیشہ زحمت بنادیتی ہے۔

شاہراہوں کا کسی بڑے تالاب کا منظر پیش کرنا، گھروں میں بارش اور سیوریج کا مخلوط پانی داخل ہونا، کرنٹ لگنے سے درجنوں شہریوں کا جاں بحق ہوجانا، بجلی کا ناپید ہوجانا، سائن بورڈز کا راہ چلتے لوگوں پر گر کر انہیں ہلاک یا زخمی کرنا وغیرہ۔۔۔ یہ کراچی شہر کو ہر مون سون کی بارشوں میں انتظامیہ کی جانب سے دیئے جانے والے تحفے ہیں۔۔۔

پہلے کراچی کے لوگ بارش کے دوران اگر گھر سے باہر نہیں تو گھر کے اندر ہی اپنی بالکونی یا کھڑکی سے برسات کا نظارہ کرکے لطف اندوز ہولیتے تھے مگر اب تو صورت حال یہ ہے کہ بقول شاعر:

اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں

بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی

باہر نظر ڈال کر دیکھیں تو لوگ کمر تک پانی میں ڈوبے ہوئے، گاڑیاں، رکشے، موٹرسائیکلیں کچرے اور گندگی کے ڈھیر کے ساتھ پانی میں تیرتی ہوئیں نظر آتی ہیں۔

کراچی میں اس بار بھی مون سون کی بارشوں کے دوران برساتی نالے اُبل پڑے اور گندا پانی سڑکوں پر بہتا ہوا شہریوں کے گھروں میں داخل ہو گیا۔ عموماً ہر سال نالوں کا بھرنا، گھروں میں پانی کا داخل ہونا اور شہریوں کی املاک کا نقصان شاید اُن کا مقدر بن گیا ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ 3  روز کی بارشوں کے دوران کرنٹ لگنے سمیت مختلف حادثات میں کم از کم  15 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، شہر کے بیشتر علاقوں میں بارش کے بعد بجلی کی طویل بندش کا سلسلہ جاری ہے، نشیبی علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 14 گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے۔

شہر میں مختلف شاہراہوں اور چوراہوں پر بارش کا پانی جمع ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کے بقول بارش کے دوران بجلی نہ ہونے کی وجہ سے گھپ اندھیرا ہو جاتا ہے اور پانی جمع ہونے کے سبب سڑک اور نالے میں تفریق کرنا ممکن نہیں رہتا اسلئے اکثر بچے ان نالوں میں ڈوب کر مرجاتے ہیں۔

شہر کے مختلف علاقوں میں پہلے سے کیچڑ اور گندگی سے پریشان مکینوں کا تعفن سے براحال ہوگیا ہے۔

کراچی میں یومیہ 13 ہزار ٹن کوڑا پیدا ہوتا ہے۔ سندھ سولڈ ویسٹ منیجمنٹ بورڈ سات ہزار ٹن جام چکرو، حب ندی کے قریب گونڈ پاس میں دو ہزار ٹن تک کچرا ٹھکانے لگاتا ہے تاہم شہر کا باقی کچرا برساتی نالوں میں کھپ جاتا ہے یا سڑکوں کی زینت بنا رہتا ہے۔

درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایات پر  پاک فوج کی ٹیمیں سول انتظامیہ کے ساتھ ریلیف آپریشن میں مصروف ہیں اور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے)کا کہنا ہے کہ کراچی کے تینوں بڑے نالوں کی صفائی کا کام 100 فیصد مکمل ہوگیا ہے اور تمام 42چوک پوائنٹس کو کلیئر کردیا گیا ہے تاہم سالہا سال کی کراچی انتظامیہ کی ناہلی کی گند چند دنوں میں تو صاف نہیں ہوسکتی ۔

کراچی میں بلدیاتی نظام کے علاوہ کلفٹن، کراچی، فیصل، کورنگی، ملیر اور منوڑہ کے نام سے کنٹونمنٹ بورڈز، ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کراچی پورٹ ٹرسٹ جیسے ادارے بھی موجود ہیں جو اپنے نظام خود چلاتے ہیں اور ان کا اپنے سینیٹری سٹاف ہے۔

برسات کے دنوں میں ان اداروں کی جانب سے اخبارات میں صرف اشتہارات آتے ہیں کہ شکایتی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

کراچی کے میئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کوئی کام نہیں کر رہے، ان کا بہت برا حال ہے۔ ’ان کے پاس پانی کی نکاسی کی چالیس مشینیں ہیں جو کہیں نطر نہیں آئیں۔ اس طرح ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کا بھی برا حال ہے۔

اس صورت حال میں انتظامیہ کہ نااہلی تو اپنی جگہ ہے ہی، تاہم شہریوں کی ایک بڑی تعداد کا بھی کردار شامل ہے۔  لوگوں نے اپنی آبادیوں کے قریب موجود نالوں کو کوڑا کرکٹ سے بھر دیا ہے۔ ظاہر ہے جب نالوں پر تجاوزات قائم ہوں گی اور کوڑا کرکٹ پھنکا جائے گا تو پھر اس کا حال وہ ہی ہوگا جو اس وقت کراچی کا ہو رہا ہے۔ اب کراچی میں بارش معمول کی ہوں یا زائد جب نکاسی آب کے راستے ہی نہیں ہوں گے اور پانی کے قدرتی نکاسی آب کے ذرائع جو کہ ندی نالے ہوسکتے ہیں پر غیر قانونی طور پر تعمیرات کا جنگل ہوگا تو

 تو پھر کراچی کا یہ ہی حال ہوگا جو اب ہو رہا ہے۔

عملی طور پر یہ کنکریکٹ کا جنگل بن چکا ہے۔ اس کو کنکریکٹ کا جنگل بناتے ہوئے اس کے نکاسی آب کے تمام ذریعوں پر ناجائز تجاوزات قائم کردی گئی ہیں۔

سندھ حکومت کے ترجمان مرتضی وہاب ایڈووکیٹ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی حکومت کی ناقص کارکردگی پر پردہ ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ کراچی کا اصل مسئلہ اونر شپ کا ہے۔ اس شہر میں کوئی اٹھارہ ادارے کام کرتے ہیں۔ کئی ادارے، کئی علاقوں اور بڑے رقبے پر موجود میونسپل ادارے سندھ حکومت کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ وہ جب نالوں وغیرہ پر تعمیرات کی اجازت دیتے ہیں، خود تعمیرات کرتے ہیں اور تجاوزات کو ختم کرنے میں تعاون نہیں کرتے تو سندھ حکومت بے بس ہوجاتی ہے۔ سندھ حکومت پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے جبکہ میئر وسیم اختر کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے۔ وہ اختیارات اور وسائل نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کراچی واٹر بورڈ اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ان کے حوالے کیا جائے۔

اختیارات کی کمی کی شکایت ہو یا بری کارکردگی۔ دونوں صورتوں میں خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے اورکراچی کے مکین سالہا سال سے اس قسم کے عذر لنگ سنتے اور اپنی کوتاہیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈالتے دیکھ دیکھ کر تنگ آچکے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپسی اختیارات کی جنگ میں ہم شہریوں کو بری طرح پیسا جارہا ہے۔ نہیں معلوم پاکستان کے اس معاشی مرکز کے شہری کب مون سون کی بارشوں سے لطف اندوز ہو پائیں گے اور مرحومہ پروین شاکر کے اس شعر

اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے

جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

کے مطابق برسات کے حسین لمحات سے محظوظ ہوں گے اور ان کے دلوں میں خوبصورت خواہشیں انگڑائیاں لیا کریں گی۔ ابھی تو صرف ان کی نگاہوں کے سامنے لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اندھیرا ہی اندھیرا،  گندگی اور کچرے کے ڈھیر، تالاب بنی سڑکیں ، اور دلوں میں کرنٹ لگنے یا سائن بورڈ گرنے سے اپنے پیاروں کے مرنے یا زخمی ہونے کا خوف ہی ہے۔