بلوچستان؛ پاک افغان سرحد کے قریب بم دھماکہ، متعدد افراد ہلاک یا زخمی
مقامی ذرائع نے خبر دی ہے کہ صوبہ بلوچستان کے علاقے چمن کے مال روڈ پر دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے۔
تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، پولیس افسر محمد محسن نے بتایا کہ نامعلوم شرپسندوں نے سڑک کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں دھماکا خیز مواد نصب کیا تھا جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو چکے ہیں اور زخمیوں کو سول ہسپتال چمن منتقل کیا گیا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر ذکا اللہ درانی نے کہا کہ دھماکے میں انسداد منشیات کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔
دھماکے کے نتیجے میں قریبی عمارتوں اور دکانوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سمیت دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوع کو گھیرے میں لے لیا تھا۔
وزیر اعظم عمران خان نے چمن میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔
خیال رہے کہ بلوچستان گزشتہ کچھ عرصے سے بدامنی کا شکار ہے، جس کے پیچھے بیرون دشمنوں کا ہاتھ ہونے کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے۔
چمن بلوچستان کا حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی سرحدیں افغانستان کے صوبے قندھار سے لگتی ہیں۔
گزشتہ ماہ صوبہ بلوچستان کے شہر تربت کے بازار میں دھماکے کے نتیجے میں ایک فرد جاں بحق جبکہ 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
اس سے قبل مئی کے مہینے میں بلوچستان میں ایک بم دھماکے اور عسکریت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر سمیت 7 جوان شہید ہوگئے تھے۔
اپریل کے مہینے میں قلعہ عبداللہ کے علاقے ٹوبہ اچکزئی میں ایک دھماکے کے نیتجے میں پاک فوج کا ایک جوان شہید اور 2 زخمی ہوگئے تھے۔
رواں سال مارچ میں چمن کی لیویز لائن میں موٹر سائیکل بم دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 7 افراد زخمی ہو گئے تھے۔
قبل ازیں 18 فروری کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے قریب احتجاج کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔






