صیہونی جنگی جہازوں کی فلسطین کے شمالی علاقے غزہ کی پٹی پر ایک بار پھر بمباری


صیہونی جنگی جہازوں کی فلسطین کے شمالی علاقے غزہ کی پٹی پر ایک بار پھر بمباری

صیہونی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ان بارود سے بھرے ہوئے غباروں کے جواب میں کئے گئے جو حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقے کی جانب روانہ کئے گئے تھے

تسنیم نیوز ایجنسی: صیہونی غاصب ریاست اسرائیل کے جنگی جہازوں نے اتوار کی شب محصور شدہ غزہ کی پٹی میں فلسطینی مقاومتی تنظیم حماس کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔
صیہونی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے ان بارود سے بھرے ہوئے غباروں کے جواب میں کئے گئے جو حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقے کی جانب روانہ کئے گئے تھے۔
صیہونی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس فضائی حملہ میں اسرائیلی جہازوں نے حماس کی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پہلے صیہونی غاصب فوج نے غزہ کے وسطی علاقوں میں حماس کے ٹھکانوں پر ٹینکوں سے شدید گولہ باری کی اس کے چند گھنٹوں بعد جنگی جہازوں کے ذریعے بم برسائے گئے۔  
یاد رہے کہ فلسطینی علاقہ غزہ جون 2007 سے اسرائیلی افواج کے محاصرے میں ہے اور گذشتہ 13 سالوں سے وہاں کے محصور مسلمانوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی بھی معطل ہے۔ 2008 سے اب تک صیہونی قابض افواج نے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف 3 بار بڑے پیمانے پر لشکر کشی کی ہے جس میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کردیا گیا اور وہاں کے پہلے سے تباہ حال انفراسٹرکچر کو مزید تباہ کیا گیا۔  
اس وقت فلسطین کے ان محصور مسلمانوں کی حمایت میں بیشتر مسلمان ملکوں نے چپ سادھ رکھی ہے، جبکہ کچھ عرب ریاستیں جیسے سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات، مصر اور بحرین تو اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرکے مسلمان عرب ریاست فلسطین کا سودا کرچکے ہیں اور اسرائیل کے مکروہ منصبوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کررکھی ہیں ۔
معزز قارئین کی یاد آوری کیلئے بتاتے چلیں کہ تقریبا ڈھائی سال قبل 23 مارچ 2018 میں ذرائع ابلاغ کے مطابق سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے نیویارک میں یہودی رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین سعودی عرب کی ترجیحات اور اہم مسائل میں شامل نہیں اور نہ ہی سعودی عرب اب مسئلہ فلسطین کو اہمیت دیتا ہے۔

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری