بیروت میں امریکی ایما پر پرتشدد مظاہرے، مظاہروں کی امریکی حمایت بہت کچھ بتارہی ہے


بیروت میں امریکی ایما پر پرتشدد مظاہرے، مظاہروں کی امریکی حمایت بہت کچھ بتارہی ہے

پرتشدد مظاہروں میں ملوث "14 مارچ گروپ" کو امریکی سفارت خانے کی پشت پناہی حاصل ہے

بیروت (تسنیم نیوز ایجنسی) بیروت میں امریکی سفارت خانے نے ایک جاری کردہ بیان میں لبنان میں سرکاری عمارتوں پر حملہ کرنے اور املاک کو نذر آتش کرنے والے پرتشدد مظاہرین کی حمایت کی ہے، دوسری جانب لبنان کے سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے مرکزی بیروت میں جاری واقعات کو ملک توڑنے کی بیرونی سازش قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لبنان کے مغرب نواز سیاسی دھڑے چودہ مارچ گروپ کے حامی سمجھے جانے والے مظاہرین نے بیروت میں وزارت خارجہ اور دیگر سرکاری اداروں، بینکوں اور نجی املاک پر حملے کرکے صورتحال کو پرآشوب بنا دیا ہےمظاہرین نے کئی مقامات پر سرکاری ملازمین کو یرغمال بھی بنالیا تھا۔

مظاہرین کی جانب سے کئی سرکاری دفاتر اور بینکوں پرحملوں کے بعد بیروت میں امریکی سفارتخانے نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لبنان کی حساس صورتحال کو مزید خراب کرنے کی کوشش کی۔
اب تک کی اطلاعات کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں ایک پولیس اہلکار جان بحق اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لبنان کے سیاسی حلقوں اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے پوری طرح ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔

لبنان کی تحریک ناصری کی اسٹیئرنگ کمیٹی کے سربراہ مصطفی حمدان نے سرکاری اداروں اور املاک پر کیے جانے والے حملوں کو ملک میں بدامنی پھیلانے کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری اور نجی املاک پر حملے کرنے والے دراصل ملک میں بدامنی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لبنان کے قومی تحریک کے سربراہ ولید الاشقر نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بعض شرپسندوں نے صرف ہماری پارٹی کے دفاتر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا ہے۔

دوسری جانب امریکی سفارت خانے کے جاری کردہ بیان میں بیروت میں ہونے والے ہنگاموں اور سرکاری املاک پر حملہ کرنے والوں کی حمایت کی ہے۔ امریکہ نے لبنان میں حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ تاہم لبنانی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ جب امریکی حکومت، پولیس کے مظالم اور نسل پرستی کے خلاف امریکہ میں مظاہرے ہوں تو امریکی صدر مظاہرین کو دھشت گرد کا خطاب دیتے ہیں اور ان مظاہروں کو سختی سے کچلنے کیلئے وفاقی فوجی دستے روانہ کرتے ہیں جبکہ یہاں بیروت میں املاک کو نذر آتش کرنے والے اور سرکاری ملازمین کو یرغمال بنانے والے پرتشدد گروہ "14 مارچ" کو پرامن کہتے ہوئے ان کی حمایت کی جاتی ہے۔

اسی دوران لبنان کے وزیراعظم حسن دیاب نے اپنے ایک بیان میں جہاں سانحہ بیروت میں ملوث افراد کے خلاف مقدمہ چلانے اور انہیں سزا دیے جانے پر زور دیا ہے وہیں ملک میں قبل از وقت انتخابات کرانے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

وزیراعظم حسن دیاب کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ قبل از وقت انتخابات کے ذریعے ملک کو موجودہ بحران سے نکالا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ بات زور دے کر کہی کہ سانحہ بیروت میں ملوث افراد کا پتہ لگا کر انہیں ان کے اعمال کی سزا دی جائے گی۔

واضح رہے گذشتہ منگل کی شام لبنان کے دارالحکومت بیروت کی بندرگاہ پر آتش گیر مواد کے ایک گودام میں آگ لگنے کے بعد ایمونیم نائٹریٹ کے ایک بڑے ذخیرے میں دھماکے ہوئے تھے جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی تھی۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق سانحے بیروت میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو اٹھاون اور زخمیوں کی تعداد چھے ہزار سے تجاوز کرگئی ہے

سب سے زیادہ دیکھی گئی دنیا خبریں
اہم ترین دنیا خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری