سجی ہوئی تھیں دکانیں منافقت کی جہاں میں ایسے قریۂ بے خواب سے نکل آیا


سجی ہوئی تھیں دکانیں منافقت کی جہاں میں ایسے قریۂ بے خواب سے نکل آیا

پاکستان کا آخر کار سعودی منافقتی جال سے باہر نکلنے کا فیصلہ ، ایسا کیوں کر ہوا؟ معروف ٹی وی اینکرنے سعودی عرب کی منافقت کو جرأت کے ساتھ برملا کردیا

تسنیم نیوز ایجنسی:"معروف ٹی وی اینکر پرسن عمران خان اپنے وی لاگ میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کشیدہ صورت حال پر تبصرہ اور سعودی عرب کی منافقت کو برملا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سعودی عرب پاکستان کو بلیک میل کررہا ہے اور پاکستان اس بار سعودی عرب سے بلیک میل نہیں ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان ایران سے دوستی نہ کرے بلکہ ایران سے تعلقات خراب رکھے اور سعودی عرب نہیں چاہتا کہ پاکستان کے ایران سے تعلقات اچھے رہیں بلکہ یہ چاہتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کیلئے ایران سے ٹکر لے ۔ پاکستان ایران سے تجارت نہ کرے، ان سے گیس نہ لے اور جتنا ایران کو جتنا معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے پاکستان پہنچائے۔ سعودی عرب پاکستان کے ترکی سے بھی اچھے تعلقات نہیں چاہتا۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان صرف سعودی عرب سے تعلقات رکھے، ایران سے کوئی تعلق نہ رکھے، ترکی کے ساتھ پاکستان کے اچھے تعلقات سعودی عرب کو اسلئے پسند نہیں ہیں کیونکہ ترکی خلافت عثمانیہ کی باتیں کرتا ہے اور سعودی عرب حجاز مقدس کے طور پر  کبھی خلافت عثمانیہ کا حصہ ہوا کرتا تھا۔

عمران خان نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کے ملائیشیا سے اسلئے اچھے تعلقات نہیں چاہتا کیونکہ ملائیشیا ایک نئے اسلامی بلاک اور مسلم ٹریڈ کی بات کررہا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان چین کو چھوڑدے اور واپس امریکی بلاک میں شامل ہوجائے اور امریکی خواہشات پوری کرے، سی پیک کو رول بیک کردے اور یہ امریکہ بھی چاہتا ہے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے اشارے پر لڑے، سعودی عرب کے کہنے پر چلے، پاکستان اپنی سستی لیبر سعودی عرب بھیجتا رہے اور سعودی عرب انکا جتنا مرضی استحصال کرتا رہے، پاکستان آواز نہ اٹھائے۔

اینکر عمران خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ہمیں جو 3 ارب ڈالر کا قرضہ دیا تھا وہ ہمیں سود پر دیا تھا۔ سعودی عرب نے جو قرضہ دیا تھا اس پر سعودی عرب 3.2 فیصد سود لے رہا تھا۔

اینکر عمران خان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو گوادر بندرگاہ سے بھی مسئلہ ہے۔ گوادر پورٹ اگر فنکشنل ہوگئی تو یہ عربوں کے مالی مفادات پر ایک ضرب ہوگی۔ اگر گوادر میں کام بڑے پیمانے پر ہوگیا تو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور عرب ممالک کی کمائیاں نیچے چلی جائیں گی۔ لیکن پاکستان یہ نہیں چاہتا کیونکہ اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھ پائے گا، پاکستان یا تو سعودی عرب کی خواہشات پوری کرلے یا آگے بڑھ جائے۔ سعودی عرب چاہتا ہے کہ پاکستان نے چین کے ساتھ جو ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہیں وہ بند کرے ، اسکے بدلے میں سعودی عرب پاکستان کو کچھ نہ کچھ دیدے گا لیکن پاکستان نے یہ سب ماننے سے انکار کردیا۔

اینکر عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے فیصلہ بہت مختلف کیا ہے۔ پاکستان نے بھی سعودی عرب کو دھمکی دی ہے کہ یادررکھیں آپ ہمیں کھودیں ، ہم او آئی سی چھوڑدیں گے، پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹم بم ہے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا اسلامی ملک ہے۔ پاکستان کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس چاہتا ہے ، پاکستان چالیس پچاس ملکوں کو اکٹھا کرکے مشترکہ موقف لاسکتا ہے لیکن سعودی عرب بھارت کے ایماء پر پاکستان کوایسا کرنے نہیں دیتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی اوقات یہ ہے کہ شاہ محمود قریشی نے ذرا سا دباؤ ڈالا تو سعودی عرب نے کہا کہ ہمارے پیسے واپس کردیں، ہم ایک سال سے سعودی عرب کی منتیں کررہے تھے ، جب سعودی عرب نہیں مانا اور ہم نے کہا کہ ہم دوسرا راستہ اپنالیتے ہیں تو سعودی عرب نے کہا کہ ہمارے پیسے واپس کرو۔ یہ ہے ہماری سعودی عرب کے ساتھ بھائی بندی ۔

انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے جو تعلقات ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہیں وہ کسی مسلمان حکمران کے ساتھ نہیں، محمد بن سلمان کا جو تعلق ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کے ساتھ ہے وہ کسی مسلمان حکمران کے ساتھ نہیں ہے۔ محمد بن سلمان کے مسلمان ممالک کے سربراہوں سے زیادہ اچھے تعلقات نریندرمودی اور اسرائیلیوں کے ساتھ ہیں۔ سعودی عرب جو کررہا ہے اس سے سعودی عرب کے حکمرانوں کی پاکستانیوں کے دلوں میں عزت بڑھے گی نہیں کم ہوگی، پاکستانی عوام سب دیکھ رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ اسکے پاکستان پر برے اثرات پڑیں، سعودی عرب پاکستان سے تمام پیسے واپس مانگ لے اور آئندہ ادھار تیل دینا بند کرے، ممکن ہے کہ سعودی عرب پاکستانیوں کو نوکریوں سے فارغ کرکے پاکستان بھیج دے اور انکی جگہ بنگلہ دیش اور دیگر ملکوں کے لوگوں کو رکھ لے، پاکستان پر بڑے زبردست اثرات مرتب ہوں گے لیکن پاکستان کو سعودی عرب اور امریکی غلامی سے نکلنا ہوگا۔

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری