اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایک خاتون " عائشہ" نام استعمال کرکے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے، وزیر مذہبی امور


اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کی ایک خاتون " عائشہ" نام استعمال کرکے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے، وزیر مذہبی امور

"عائشہ" نامی خاتون بہت اچھی عربی بولتی ہے، یہ خاتون اپنے جعلی اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلا تی ہے: نورالحق قادری

تسنیم نیوز ایجنسی: وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری کا اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام "مختلف مسالک کے درمیان روابط و حسن تعامل کا لائحہ عمل” کے عنوان سے منعقدہ کنونشن سے خطاب کے دوران انکشاف کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اسرائیل میں موساد کی ایک خاتون رکن "عائشہ” نام استعمال کر کے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلا رہی ہے، وہ بہت اچھی عربی بولتی ہے، یہ خاتون اپنے جعلی اکاؤنٹ سے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ مواد پھیلا تی ہے جسے بعد میں اہل تشیع اور سنی بنا کچھ سوچے سمجھے شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر کا اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام منعقدہ کنونشن میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ کچھ عرصے سے نوٹ کیا جا رہا ہے کہ مقدس ہستیوں کے بارے میں سوشل میڈیا پر توہین آمیز گفتگو بڑھتی جا رہی ہے جو کہ ایک پوری منصوبہ بندی کے تحت کیا جا رہا ہے لیکن کچھ نا سمجھ اور جذباتی لوگ بنا کچھ سوچے سمجھے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اپنا ایمان گنوا بیٹھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار عشروں سے پاکستان کو لسانی، مذہبی، مسلکی، علاقائی بنیادوں پر عدم استحکام کا شکار کر کے تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوششیں کرنے والوں کو ہمیشہ ناکامی کا سامنا رہا، تاہم اب ایک آخری کوشش اہل تشیع، سنی، بریلوی، دیوبندی، سلفی کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات پیدا کرکے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا کہنا تھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے کنونشن کا مقصد اسرائیل کی ایجنٹ خاتون کے ہاتھوں سوشل میڈیا پر پھیلائے گئے فرقہ وارانہ مواد کے ذریعے اپنے علماء کرام اور عوام الناس کو استعمال ہونے سے بچانا ہے، تاکہ ملک میں عدم استحکام پیدا نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں کچھ سال پہلے آٹھ فرقوں کا اعلان تسلیم کیا گیا تھا، فرقوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنا زحمت جب کہ اختلاف رائے رحمت ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ علمائے کرام کی مدد سے حکومت کرونا وائرس کو قابو کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، تاہم یہ ہماری بدقسمتی ضرور ہے کہ محرم الحرام کے آتے ہی انتظامی افسران کی جانب سے علمائے کرام کو پر امن رہنے کی تلقین کی جاتی ہے، تاہم محرم الحرام کے دوران پر امن رہنے کا یہ کام علمائے کرام کو خود کرنا چاہیے، لیکن اگر وہ پرامن نہیں رہتے تو حکومت ہر صورت اپنی رٹ برقرار رکھے گی۔

 

 

سب سے زیادہ دیکھی گئی پاکستان خبریں
اہم ترین پاکستان خبریں
اہم ترین خبریں
خبرنگار افتخاری