افغانستان کا الزام مسترد، پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری
پاکستان نے افغان علاقے پر قبضے کی افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد باڑ بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔
پاکستان نے افغان علاقے پر قبضے کی افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک افغان سرحد باڑ بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔
تسنیم نیوز: پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے افغان حکام کی جانب سے پاک فوج پر لگائے گئے پاک-افغان سرحد پر 'غیر قانونی' باڑ لگانے کے الزامات کو مسترد کردیا۔
ترجمان نے واضح کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا پاکستان کی سلامتی کے سنگین خدشات کو دور کرنے کے لیے کیا جارہا ہے اور یہ مکمل طور پر بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان فریق کی کسی بھی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے متعلقہ ادارہ جاتی میکانزم کے ذریعے سرحدی معاملات پر مشغول ہونے کی تلقین کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ مشترکہ ٹوپوگرافک سروے کے بارے میں پاکستان کی تجویز پر افغانستان کی طرف سے مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا۔
ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان افغانستان کی علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق برادر ملک کے ساتھ اپنے تعلقات رکھتا ہے اور اسے افغانستان کی جانب سے بھی اسی طرح کے باہمی تعلقات کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان کی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان صوبے کنڑ کے ڈپٹی گورنر گل محمد بیدر کا کہنا تھا کہ 'انہوں (پاکستان) نے متبادل راستوں پر بھی باڑ لگانا شروع کردیا ہے، وہ چند اہم علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، اس کے رد عمل میں ہم نے بھی چند اہم علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے'۔
ان کا کہنا تھا کہ 'کبھی کبھی کشیدگی ہوجاتی ہے مگر کبھی کبھی ہم دونوں اپنے جھنڈے تلے بیٹھتے ہیں اور پر امن طریقے سے آگے بڑھتے ہیں'۔
افغان میڈیا طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق افغان وزارت خارجہ نے رپورٹ پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان نے اس بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور سفارتی ذرائع سے اس پر احتجاج بھی ریکارڈ کراچکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 'اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے ہر قدم پر افغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے'۔