کیا یو اے ای کے بعد مراکش اور اسرائیل کے درمیان بھی تعلقات بحال ہونے جا رہے ہیں؟


اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد مراکش کے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے والے ہیں۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات قائم کرنے کے معاہدے کے بعد ایک اور عرب ملک مراکش کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے والی اگلی عرب ریاستوں میں سے ایک ہونے کا امکان ہے۔

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد مراکش کے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے والے ہیں۔ امریکی اہلکاربھی مراکش کو ایک امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ مراکش کے پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ سیاحتی اور تجارتی تعلقات قائم ہیں۔  

مراکش نے 1975 میں اسپین کے مغربی صحارا سے دستبردار ہونے کے بعد اس کے بڑے حصوں پر قبضہ کرلیا تھا اور ان علاقوں کو اپنے ملک ساتھ منسلک کردیا تھا جس کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔

فروری میں انکشاف ہوا تھا کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ایک تین طرفہ معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں جس کو فروغ دینے کے لئے واشنگٹن سے تبادلہ خیال جاری ہے۔  لیکن ٹرمپ انتظامیہ نے فی الحال کوئی جواب نہیں دیا۔

خیال رہے مراکش کو امریکا کا اتحادی سمجھا جاتا ہے، اور وہ طویل عرصے سے اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی لیکن قریبی انٹیلی جنس تعلقات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اگرچہ ان ممالک کے باضابطہ تعلقات نہیں ہیں ، لیکن مراکش نے اسرائیلی رہنماؤں کی میزبانی کی ہے ، اور اسرائیلیوں کو وہاں جانے کی اجازت ہے، مراکش میں تقریباً3،000 یہودی آباد ہیں جو 1948 میں صیہونی ریاست کی فلسطین پر ناجائز قبضے سے پہلے کی تعداد کا ایک حصہ تھا ، لیکن پھر بھی یہ عرب دنیا کی سب سے بڑی جماعت ہے۔  

مراکش کے علاوہ بحرین اور عمان بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں متحدہ عرب امارات کی پیروی کرسکتے ہیں۔ دونوں ممالک نے اسرائیل یواے ای معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔