سعودی حکومت تین شیعہ نوجوانوں کی سزائے موت معطل کرنے پر مجبور
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت تین شیعہ نوجوانوں کی سزائے موت معطل کرنے پر مجبور ہوگئی ہے۔
تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب میں سیاسی اور مذہبی مخالفین کے خلاف نام نہاد عدالتی حکم ناموں کے متعلق وسیع پیمانے پر ملکی اور غیر ملکی سطح مظاہروں کے بعد سعودی حکام نے تین شیعہ جوانوں کی سزائے موت معطل کردیا ہے۔
سعودی قاضی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تین شیعہ جوان علی النمر ، داؤد المرھون اور عبداللہ الزاہر کو سن 2016 میں دہشت گردی کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی تھی جبکہ ان کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔
سعودی قاضی نے کہا ہے کہ تینوں افراد کی عمر18 سال سے کم ہونے کی وجہ سے سزائے معطل کی جارہی ہے۔
سعودی قاضی کا کہنا تھا کہ ملک سلمان نے ملک بھرمیں 18 سال سے کم عمر افراد کو سزائے موت دینے سے منع کیا ہے اس لئے ان تینوں افراد کی سزائے موت معطل کی گئی ہے۔
دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سعودی عرب کے اندر انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کے لئے ایک بہت بڑی فتح ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ تنظیم کی طرف سےسعودی عرب کے جیلوں میں قید مظلوم شہریوں کی آزادی کے لئے بھرپوری کوششیں کی گئیں۔
خیال رہے کہ کم عمرجوانوں کی سزائے موت کے خلاف سعودی عرب سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں مظاہرے کئے گئے تھے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی متعدد خواتین کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔






