سعودی بادشاہ ملک سلمان نے وزارت دفاع کے متعدد افسران کو برطرف کردیا
ملک سلمان نے وزارت دفاع کے متعدد عہدیداروں اور افسروں کو برطرف کرنے کا نیا حکم جاری کردیا ہے۔
تسنیم خبررساں ادارے کے مطابق، سعودی عرب کے فرمانروا نے یمن کے خلاف سعودی اتحادی افواج کے کمانڈر اور وزارت دفاع کے متعدد عہدیداروں اور افسران کو برطرف کرنے کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔
سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبد العزیز نے پیر کی شب یمن کے خلاف اتحادی افواج کے کمانڈر شہزادہ فہد بن ترکی اور سعودی وزارت دفاع کے متعدد افسران کے بارے میں تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق شاہ سلمان نے« الجوف» کے امیر «عبد العزیز بن فہد بن ترکی» کو ہٹانے اور اس کے متعلق بدعنوانی اور کرپشن کی تحقیقات کا بھی حکم دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی اینٹی کرپشن کمیٹی وزارت دفاع میں مشکوک مالی لین دین کی تحقیقات کررہی ہے۔
سعودی فرمانروا کے حکم کے مطابق، سعودی وزارت دفاع کے نائب چیف آف اسٹاف، «مطلق بن سالم الازیمع»کو یمن کے خلاف اتحادی افواج کا نیا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے گذشتہ ہفتے بھی متعدد افسران کو کرپشن کے الزام برطرف کردیا تھا۔
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہ سلمان اور ان کے بیٹے، محمد بن سلمان، مختلف بہانوں سے اپنے سیاسی مخالفین کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔
سعودی عرب پر نظررکھنے والےوالےسیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی حکام کرپشن، بدعنوانی اور رشوت ستانی کے الزامات لگا کر اپنے مخالفین کو ہٹا رہے ہیں۔






