ہمیشہ اتحاد و وحدت کے لئے مثبت اقدامات کئے، مسلمہ مقدسات کی توہین قطعی حرام و ممنوع ہے، شیعه علماء


ملک کی موجودہ صورتحال پر علامہ سید ساجد علی نقوی ، مرکزی صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان آیت ا۔۔ہ حافظ ریاض حسین نجفی اور سربراہ جامعة الکوثر اسلام آباد مفسر قرآن علامہ الشیخ محسن علی نجفی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے ہم نے ہمیشہ ملکی استحکام اورامت کے اتحاد و وحدت کیلئے مثبت اقدامات کئے ہیں۔

ہماری جانب سے تہذیب وشائستگی، قانون پسندی اورذمہ دارانہ طرزعمل کامظاہرہ ،حب الوطنی اورقومی آہنگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے۔
ہم نے ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی دے کرقومی سلامتی اورداخلی وحدت پرآنچ نہیں آنے دی۔لیکن بعض عناصرملک میں فرقہ واریت، بدامنی اورقتل وغارت گری پھیلانے کیلئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ وطن ِعزیز کی حفاظت وبقاءکیلئے ہماری شرعی اوراخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسلمہ مقدسات کااحترام کریں۔ہمارے بزرگ مراجع عظام واضح موقف دے چکے ہیں کہ کسی بھی فرقہ کے مسلمہ مقدسات کی توہین وبے احترامی قطعی حرام اورممنوع ہے لہذا اہلبیتؑ اطہار اور صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والوں کی مذمت کی جاتی ہے۔

ملک ِپاکستان میں اسلام کے مختلف مسالک اورمکاتب فکرموجودہیں اورالحمدللہ ہماری محنتوں اورکاوشوں سے اِن کے درمیان فروعی اختلافات کے باوجوداتحادووحدت اوربھائی چارہ قائم ہے جوبعض عناصر کیلئے ناقابل ِبرداشت ہے۔ موجودہ ماحول کسی گہری سازش کاپتہ دیتا ہے لیکن ہم باہمی اتحادوحدت اوردانش مندی سے کسی بھی منفی ایجنڈے کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے اور پرامن فضاقائم رکھنے کیلئے تمام اقدامات بروئے کارلائیں گے۔

ہم تمام مسالک اورمکاتب ِفکرکے پیروکاروں سے یہ کہناضروری سمجھتے ہیں کہ ایسی کسی بھی توہین آمیزگفتگوسے گریزکریں جودوسرے مسالک کی دل آزاری اورملکی عدم استحکام کاباعث بنے کیونکہ ہماراملک اِس قسم کی فرقہ واریت اورمنافرت کامتحمل نہیں ہوسکتا۔

امیدہے تمام اہل ِاسلام و پاکستان ہماری گزارشات پرتوجہ فرمائیں گے۔ علامہ ساجد نقوی نے سویڈین میں قرآن مجیدنذر آتش کرنے اور فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس بلاجواز حرکت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

انہوں نے کہاکہ اظہار رائے کے نام پر گستاخانہ افعال ناقابل برداشت ہیں،اس طرح کی کارستانیاں پرامن ماحول کوسبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں ہمیں امید ہے کہ عالمی برادری اس قسم کے مسائل کے تد ارک کیلئے اقدامات کرتے ہوئے ایسے رحجانات کی بیخ کنی کرے گی