دریائے سندھ میں اونچے درجے کا سیلاب، متعدد دیہات زیرآب آگئے
دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث 20 دیہات زیر آب آ گئے کئی ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔
تسنیم خبررساں ادارے نے مقامی ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ20 سے زائد دیہات زیرآب آنے سے ان کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ سیلاب کے باعث کپاس، چاول اور مونگی کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ علاقہ مکین کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں رہنے اور کھانے کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
قادر پور میں سیلاب سے متاثرہ دیہاتوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر متنقل کیا جا رہا ہے جبکہ فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
محکمہ آبپاشی کے مطابق قادر پور بچاؤ بند محمد علی لکھن پل کے مقام پر کمزور بند پر کام جاری ہے۔
دوسری جانب گڈو بیراج کے مقام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ گڈو بیراج میں پانی کی آمد 5 لاکھ 69 ہزار 570 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پانی کا اخراج 5 لاکھ 40 ہزار 650 کیوسک ہے۔
ہالہ کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ سعید آباد اور مٹیاری کے بھی کچے کے علاقوں میں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ پانی کے بہاؤ میں اضافے کے باعث لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔
کچے میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی کپاس، سبزیاں و دیگر فصلیں زیرآب آگئی ہیں۔






